سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

غسلِ میت۔

2 احادیث

انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے اور پانی سے غسل دو اور آخر میں کافور -یا یہ کہا کہ کچھ کافور- کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہوکر مجھے بتا دینا

عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضيَ اللهُ عنها قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الآخِرَةِ كَافُورًا -أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ-، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي»، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ، فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ»، وَقَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلاَثَةَ قُرُونٍ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: «انھیں تین یا پانچ یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ بیری کے پتے اور پانی سے غسل دو اور آخر میں کافور -یا یہ کہا کہ کچھ کافور- کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہوکر مجھے بتا دینا»۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی، تو آپ ﷺ نے ہمیں اپنا حقوہ (ازار) دیا اور فرمایا: «ان کے بدن کو اس سے لپیٹ دو»۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں بنا دیں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ کی بیٹی زینب کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ ان عورتوں کے پاس تشریف لائے جو انھیں غسل دینے والی تھیں اور ان سے فرمایا: انھیں بیری کے پتے اور پانی سے تین یا پانچ مرتبہ یا اگر ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو، اور آخری غسل میں کچھ کافور ملا دینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔ جب وہ خواتین ان کو غسل دے چکیں تو انہوں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اپنا تہ بند (ازار) غسل دینے والیوں کو دیا اور فرمایا: ان کو اس میں لپیٹ دو اور اسے اس کے جسم سے متصل پہلا کپڑا بناؤ۔ پھر ان کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دی گئیں۔

فوائد
  1. مسلمان میت کو غسل دینا واجب ہے، اور یہ فرض کفایہ ہے۔
  2. عورت کو عورتوں کے سوا کوئی غسل نہیں دے سکتا اور مرد کو مردوں کے سوا کوئی غسل نہیں دے سکتا، البتہ بیوی اور شوہر، لونڈی اور اس کا آقا اس سے مستثنیٰ ہیں، چنانچہ ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو غسل دے سکتا ہے۔
  3. غسل تین بار دیا جائے، اگر کافی نہ ہو تو پانچ بار، اور اگر یہ بھی کافی نہ ہو تو مصلحت اور ضرورت کے مطابق اس میں اضافہ کیا جائے، اس کے بعد اگر جسم سے کوئی نجاست نکلے تو نجاست نکلنے کی جگہ کو بند کر دیا جائے۔
  4. غسل دینے والا غسل کو طاق عدد پر ختم کرے، تین، یا پانچ، یا سات۔
  5. سندی کہتے ہيں: اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت کو غسل دینے کی کوئی تحدید نہیں ہے، بلکہ صفائی مطلوب ہے، لیکن طاق عدد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  6. پانی کے ساتھ بیری ہو؛ کیونکہ یہ پاک کرتا اور میت کے جسم کو سخت کرتا ہے۔
  7. میت کو آخری غسل کے ساتھ خوشبو لگائی جائے، تاکہ پانی اسے زائل نہ کردے، اور یہ خوشبو کافور کی ہو، کیونکہ یہ اپنی اچھی خوشبو کے ساتھ ساتھ جسم کو سخت بھی کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں جلد بگاڑ پیدا نہیں ہوتا۔
  8. معزز اعضاء سے غسل شروع کیا جائے، یعنی دائیں اعضاء اور اعضائے وضو۔
  9. مرنے والی کے بالوں میں کنگھی کرنا، انہیں تین چوٹیوں میں باندھنا، اور انہیں اس کے پیچھے ڈال دینا مستحب ہے۔
  10. میت کو غسل دینے میں مدد کرنا جائز ہے، لیکن صرف وہی حاضر ہو جس کی ضرورت ہو۔
  11. نبی ﷺ کے آثار مثلاً آپ ﷺ کے لباس سے تبرک حاصل کرنا، یہ عمل آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے، چنانچہ اس میں آپ ﷺ کے علاوہ دیگر علماء وصالحین کو شامل نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ یہ امور توقیفی ہیں، صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کیا؛ اور اس لیے بھی کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ یہ عمل شرک کا وسیلہ اور اس شخص کے لیے فتنہ کا باعث ہے جس سے تبرک حاصل کیا جائے۔
  12. امین شخص کو اس امانت میں تصرف کا اختیار سونپنا جائز ہے، اگر وہ اس کا اہل ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 74) (1258 - 1259). صحيح مسلم (2/ 646) (939). تيسير العلام، للبسام (ص281). تنبيه الأفهام، لابن عثيمين (2/ 360). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لعبد العزيز بن باز (ص344). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 227).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص کسی میت کو غسل دے، اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا۔

عن أبي رافع رضي الله عنه مرفوعاً: «من غسَّل ميتاً فكتم عليه، غفر الله له أربعين مرة».
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی میت کو غسل دے اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا“۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو میت کو غسل دیتا ہے اور اس کے کسی عیب کو دیکھ کر اس پر پردہ ڈالتا ہے۔ میت کی کسی ناپسندیدہ حالت کو دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ جو اس کی حالت سے تعلق رکھے اور دوسرے وہ جو اس کے جسم اور بدن سے تعلق رکھے۔ پہلی قسم جیسے نہلانے والا دیکھے کہ میت کا چہرہ تبدیل ہوگیا ہے، کالا اور بدصورت ہوگیا ہے، عموماً یہ اس کے بُرے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے، اللہ کی پناہ، سو نہلانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ کہتا پھرے کہ میں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا، اس لیے کہ یہ اس کے عیوب کو بیان کرنا ہے، حالانکہ یہ میت اپنے رب کے ہاں چلا گیا ہے اور عنقریب وہ اپنے عدل و فضل کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ نہلانے والا میت کی پیٹھ پر کوئی عیب دیکھے جسے وہ اپنی زندگی میں لوگوں سے چھُپاتا رہا، تو اس عیب کو چُھپانے والے کے لیے اجرِ عظیم چالیس مرتبہ معافی کی صورت میں ملے گا۔

حوالہ

سنن البيهقي الكبرى، للبيهقي، مكتبة دار الباز - مكة المكرمة ، 1414 - 1994 المعجم الكبير-أبو القاسم الطبراني -المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي-دار النشر: مكتبة ابن تيمية - القاهرة-الطبعة: الثانية المستدرك على الصحيحين-الحاكم-تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا-الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت - الطبعة: الأولى، 1411 - 1990 صحيح الترغيب والترهيب – الألباني، مكتبة المعارف - الرياض نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه . دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. كنوز رياض الصالحين بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه . بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com