اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے چاشت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا آپ ﷺ نے اسے پڑھا ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے چاشت کی نماز نہیں پڑھی ہے، سوائے اس کے کہ آپ سفر سے واپس آتے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز مداومت سے نہیں پڑھتے تھے؛ بلکہ کبھی پڑھتے تھے اور کبھی نہیں پڑھتے تھے۔ ہمیشہ نہ پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو خوف تھا کہ کہیں یہ آپ کی امت پر فرض نہ کردی جائے۔ جیسا کہ اس بات پر دیگراحادیث دلالت کرتی ہیں۔ البتہ دوسری احادیث کی بنیاد پر ایک مسلمان کے لیے اسے ہمیشہ پڑھنا بھی جائز ہے۔
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة الأولى، 1427هـ - 2006م.