سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبی ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما عیدین کی نمازیں خطبے سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔

عن عبد الله بن عُمر رضي الله عنهما قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعُمر يصلون العيدين قبل الخُطْبة».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما عیدین کی نمازیں خطبے سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اور آپ کے خلفاء راشدین کا معمول یہ تھا کہ وہ لوگوں کو عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز پڑھاتے اور خطبہ دیتے اور نماز کو خطبہ پر مقدم رکھتے۔ یہ عمل اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ مروان نے اپنے دور حکومت میں آکر نماز سے پہلا خطبہ دیا۔ سنت کی خلاف ورزی پر لوگوں نے ان پر نکیر کی لیکن بنو امیہ اسی طریقہ پر باقی رہے پھر جب بنو عباس حکومت میں آئے تو انہوں نے (نبیﷺ کی) سنت کو دوبارہ شروع کردیا۔

حوالہ

تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة العاشرة، 1426هـ - 2006م. تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى، 1426هـ. صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، لأبي الحسين مسلم بن الحجاج القشيري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. تأسيس الأحكام، لأحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نمازِ عیدین

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com