سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نمازِ خوف

3 احادیث

غزوہ ذات الرقاع میں خوف کی نماز پڑھنے کا طریقہ

عن صالح بن خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ رضي الله عنه عمّن صلَّى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة ذَاتِ الرِّقَاعِ صلاةَ الخوف: أن طائفة صفَّت معه، وطائفة وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فصلَّى بالذين معه ركعة، ثم ثبت قائما، وأتموا لأنفسهم، ثم انصرفوا، فصفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وجاءت الطائفة الأخرى، فصلَّى بهم الركعة التي بقيت، ثم ثبت جالسا، وأتموا لأنفسهم، ثم سلَّم بهم.
صالح بن خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ایک ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے غزوۂ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی تھی۔ (خوف کی نماز کا طریقہ یوں) نقل کرتے ہیں کہ (اس دن) ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ( نماز کے لیے) صف بندی کی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل صف آرا ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس جماعت کو جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی، ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر آپ ﷺ کھڑے رہے اور اس جماعت نے خود اپنی نماز پوری کی (یعنی جماعت میں شامل لوگوں نےدوسری رکعت تنہا پڑھ لی) پھر اس کے بعد یہ جماعت (نماز سے فارغ ہو کر) واپس ہوئی اور دشمن کے مقابل صف آرا ہوگئی اور وہ جماعت جو دشمن کے مقابل صف آرا تھی (نماز کے لیے) آگئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وہ دوسری رکعت، جو باقی رہ گئی تھی، اس جماعت کے ساتھ پڑھی اور (تشہد میں) بیٹھے رہے اور پھر اس جماعت نے خود اپنی نماز پوری کی اور پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک غزوے میں تشریف لے گئے، جس میں اکثر صحابہ پیدل تھے۔ جب وہ پاؤں ننگے ہونے کی وجہ سے نڈھال ہو گئے، تو اپنے قدموں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لیے۔ نبی ﷺ کا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا تو ہوا، لیکن قتال کی نوبت نہ آئی، تاہم مسلمانوں نے اپنے دشمنوں کو خوف زدہ ضرور کر دیا۔ اس حدیث کی رو سے دشمن قبلے کی سمت میں نہیں تھے، کیوںکہ ان کے گھر مدینے کے مشرقی جانب تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نے نماز کے لیے صف بندی کر لی اور دوسرا گروہ نمازیوں کے پیچھے موجود دشمن کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے اپنے ساتھ موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ کھڑے رہے، جب کہ لوگوں نے خود ہی اپنی دوسری رکعت پوری کی اور سلام پھیر دیا اور دشمن کی جانب چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آ گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں باقی ماندہ ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک اور رکعت پڑھ لی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ پہلے گروہ کو امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہنے کی خصوصیت حاصل ہوئی اور دوسرے کو نماز سے نکلنے یعنی امام کے ساتھ سلام پھیرنے کی خصوصیت ملی۔ یوں آپ ﷺ نے دشمن کو حملہ کرنے کا موقع نہ دیا اور اس کے ساتھ ساتھ امام کے ساتھ نماز کی فضیلت پانے میں بھی سب برابر کے شریک رہے۔

حوالہ

تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة العاشرة، 1426هـ - 2006 م. تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة، الامارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى 1426هـ. صحيح البخاري، لأبي عبد الله الجعفي البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. تأسيس الأحكام، لأحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

خوف كى نماز کا طریقہ جیسا كہ جابر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنهما قال: «شَهِدْتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فَصَفَفْنَا صَفَّيْنِ خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم والعدو بيننا وبين القبلة، وكَبَّرَ النبي صلى الله عليه وسلم وكَبَّرنا جميعا، ثم ركع ورَكَعْنا جميعا، ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا، ثم انحدر بالسجود والصف الذي يليه، وقام الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ في نَحْرِ الْعَدُوِّ، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم السجود، وقام الصفّ الذي يليه انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بالسجود، وقاموا، تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، ثم ركع النبي صلى الله عليه وسلم وركعنا جميعا، ثم رفع رأسه من الركوع ورفعنا جميعا، ثم انحدر بالسجود، والصفّ الذي يليه -الذي كان مُؤَخَّرا في الركعة الأولى- فقام الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم السجود والصف الذي يليه: انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بالسجود، فسجدوا ثم سلَّم صلى الله عليه وسلم وسَلَّمْنا جميعا، قال جابر: كما يصنع حَرَسُكُمْ هؤلاء بأُمرائهم». وذكر البخاري طرفا منه: «وأنه صلى صلاة الخوف مع النبي صلى الله عليه وسلم في الغزوة السابعة، غزوة ذات الرِّقَاعِ».
جابر بن عبد الله انصارى - رضی اللہ عنہما- فرماتے ہیں کہ میں خوف کی نماز پڑھتے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا، دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھا ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنائیں نبی ﷺ نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تکبیر کہی پھر آپ ﷺ نےرکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی سر اٹھایا پھر آپ ﷺ سجدہ میں چلے گیے تو آپ ﷺ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جب کہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی ﷺ اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اور پھر کھڑے ہو گیے اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آگے آگیے اور اگلی صف کے لوگ پیچھےچلے گیے، پھر نبی ﷺ نے رکوع کیا اور ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا پھر آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھایا اور ہم سب بھی اکٹھے رکوع سے سر اٹھایا اور پھر آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے تو آپ ﷺ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا- جو كہ پہلےپچھلی صف میں تھے- جب کہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی ﷺ اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اور تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو ہم سب نے اکٹھے سلام پھیرا جابر رضی اللہ عنہ کہتےہیں: جیسے آج کل تمہارے حفاظتی دستے اپنے امراء کے ساتھ کرتے ہیں۔ (امام مسلم نے یہ روایت مکمل ذکر کی ہے)، امام بخاری نے اس کا کچھ حصہ ہی ذکر کیا ہے کہ انھوں (جابر رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ساتویں غزوے ’ذات الرقاع‘ میں نمازِ خوف پڑھی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں خوف کی نماز کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ذکر کیا گیا ہے۔ خوف کی نماز کے اس طریقے میں دشمن قبلے کی جانب ہے، آپ ﷺ نے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ پہلی صف میں اور دوسرا دوسری صف میں ہے، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی، جس میں تمام لوگ ایک ساتھ تکبیر ، ایک ساتھ قرأت ، ایک ساتھ رکوع اور ایک ساتھ رکوع سے اٹھتے ہیں، پھر سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ساتھ والی صف بھی سجدہ کرتی، پھر جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو پچھلی صف جو کہ دشمن کے سامنے پہرا دے رہی تھی سجدہ کرتی، جب کھڑے ہوئے تو برابری کی رعایت کرتے ہوئے پچھلی صف آگے اور اگلی صف پیچھے ہوجاتی کہ پوری نماز میں پہلی صف اپنی جگہ پر نہیں رہتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جیسا پہلی صف میں کیا، پھر تمام کو تشہّد کروائی اور سب کے لیے سلام پھیرا۔ اس حدیث میں نمازِ خوف کی یہ کیفیت تفصیل سے ذکر ہوئی، یہ اس واقع حال کے مناسبت سے تھی جو آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درپیش تھی کہ دشمن قبلے کی جانب ہے، وہ دشمن کو قیام اور رکوع کی حالت میں دیکھ رہے ہیں اور پچھلی جانب سے دشمن کے حملے سے محفوظ ہیں۔

حوالہ

تيسير العلام للبسام الناشر: مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة- العاشرة، 1426 هـ - 2006 م . تنبيه الأفهام للعثيمين -طبعة مكتبة الصحابة الامارات - مكتبة التابعين- القاهرة- الطبعة الأولى 1426. صحيح البخاري -أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة الجعفي البخاري تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة : الأولى 1422هـ. صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. تأسيس الأحكام -أحمد بن يحيى النجمي- دار المنهاج- القاهرة- مصر -الطبعة الأولى. الموسوعة الفقهية الكويتية-وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت-الطبعة: (من 1404 -1427 هـ) الأجزاء 1 - 23: الطبعة الثانية، دار السلاسل – الكويت- الأجزاء 24 - 38: الطبعة الأولى، مطابع دار الصفوة - مصر الأجزاء 39 - 45: الطبعة الثانية، طبع الوزارة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔

عن عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما قال: « صَلَّى بنا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف في بعض أيامه، فقامت طائفة معه، وطائفة بِإِزَاءِ العدو، فصلَّى بالذين معه ركعة، ثم ذهبوا، وجاء الآخرون، فصَلَّى بهم ركعة، وقَضَتِ الطائفتان ركعة ركعة».
عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ یوں دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کی کسی جنگ میں آپ ﷺ نے لڑائی کے وقت ہمیں نماز پڑھائی۔ مسلمانوں کو خوف تھا کہ کہیں نماز میں مشغول ہونے سے کفار ان پر دھاوا نہ بول دیں، دشمن قبلے کی جانب نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا، ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے نمازیوں کے پہرے کے لیے کھڑی ہوئی۔ جو جماعت آپ کے ساتھ تھی آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ نماز کی حالت میں چلے گئے اور دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ دوسری جماعت آئی جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ جس گروہ نے آخر میں آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اس نے باقی رکعات کی قضا کی اور پھر پہرہ کے لیے چلی گئی، اور پہلی جماعت نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ یہ نماز خوف پڑھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے مُراد وہ ہے جو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا: ”سب لوگ نماز میں تھے، تاہم بعض لوگ بعض کا پہرہ دے رہے تھے“۔ (بخاری)

حوالہ

تيسير العلام للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة الطبعة- العاشرة، 1426هـ - 2006 م. تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة الامارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى 1426هـ. صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. تأسيس الأحكام، لأحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com