عائشہ رضی الله عنها خبر دے رہی ہیں کہ نبی ﷺ ہمیشہ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر بھی ہوتی تھی۔ چاہے رمضان ہو، یا غیر رمضان، اور اسی طرح فجر کی دو رکعتوں کی مداومت کیا کرتے تھے، مداومت سے مراد کثرت سے پڑھنا ہے، جیسا کہ وارد ہے کہ نبی ﷺ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تھا، تو آپ ﷺ اس میں اتنی محنت کیا کرتے تھے جتنی کہ آپ اس کے علاوہ دوسرے میں نہیں کرتے تھے، چنانچہ اس سے مراد، نبی ﷺ رکعتوں کو لمبی کیا کرتے تھے، نہ کہ رکعتوں میں اضافہ فرماتے تھے، نبی ﷺ رات میں کبھی تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور کبھی گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔ (کچھ روایتوں میں) یہ بھی آیا ہے کہ آپ ﷺ کبھی اس سے کم بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
صحيح البخاري لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام تأليف: الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى.