یہ حدیث شریف نبی ﷺ کے فعل کو بیان کر رہی ہے کہ جب بھی آپ ﷺ کو کوئی باعثِ مسرت امر پیش آتا یا پھر کسی اچھی بات کی بشارت دی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔سجدۂ شکر ایسی نعمتوں کے لیے مشروع ہے جو نئی نئی حاصل ہوئی ہوں۔ ایسی نعمتیں جو ہمہ وقت جاری رہتی ہیں جیسے اسلام، عافیت اور لوگوں سے بے نیازی کی نعمتیں تو ان میں سجدہ شکر کرنا مشروع نہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں تو ہمیشہ جاری رہتی ہیں اور ان کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ اگر ان کے لیے سجدہ بجا لانا مشروع کر دیا جاتا تو پھر تو انسان اپنی ساری عمر سجدے میں ہی لگا دیتا۔ ان (ہمہ وقت جاری رہنے والی) نعمتوں پر اور ان کے علاوہ دیگر نعمتوں پر شکر بجا لانے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرماں برداری کی جائے۔
سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود، دار الفكر، تحقيق : محمد محيي الدين عبد الحميد. سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرين، دار إحياء التراث العربي، بيروت. سنن ابن ماجه، ابن ماجه محمد بن يزيد القزويني، دار الفكر، بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى1421هـ، 2001م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ.