”سورہ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ سورہ ص میں جو سجدۂ تلاوت ہے وہ واجب نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کرنے پر کوئی تاکیدی حکم وارد نہیں ہوا، بلکہ خبر دینے کے الفاظ میں اس کا کرنا وارد ہوا ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہوئے یہ سجدہ فرمایا تھا، جب اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول کرکے ان کی مغفرت کے ذریعے ان پر انعام فرمایا تو آپ ﷺ نے شکریہ کے طور پر یہ سجدہ ادا فرمایا۔ سنن نسائی کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا“ یعنی ”داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں“۔
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 2006 م.