اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی سہو نماز میں ہو جائے زیادتی، کمی یا شک کی صورت میں تو اس پر سجدۂ سہو کرنا واجب ہے، یہ حدیث ان لوگوں کے دلائل میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد ہے۔ اس مسئلہ میں تمام دلیلوں کے درمیان جمع کی صورت یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو دو صورتوں میں ہے: پہلی صورت جب اس نے سلام پھیرا دیا جب کہ اس نماز میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ دوسری صورت جب اسے شک ہوا اور غالب گمان کا خیال کرتے ہوئے مکمل کیا ان دو صورتوں کے علاوہ سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے ہو گا۔
مسند أحمد بن حنبل، لأبي عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق أبو المعاطي النوري، عالم الكتب. السنن، لأبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني ، دار الفكر، تحقيق : محمد محيي الدين عبد الحميد. صحيح أبي داود للألباني، ط1، مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت، 1423 هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، عبدالله بن عبد الرحمن البسام ، مكتبة الأسدي، مكة ، ط الخامسة 1423هـ .