یہ حدیث جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اسلام کے عمومی قواعد اور اصولوں میں سے ایک ہے، جن پر بہت سے اہم ترین احکامات کی بنیاد کھڑی ہے۔ اصول یہ ہےکہ یقینی چیزیں اپنے حکم پر باقی رہیں کی، محض شک اور گمان کی بنا پر انھیں اس سے الگ نہیں کیا جاۓ گا؛ شک چاہے قوی ہو یا کمزور، جب تک یہ شک یقین یا ظن غالب کے درجے تک نہ پہنچ جائے۔ اس کی بہت سی واضح مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خود اس حدیث میں موجود ہے کہ جب انسان کو اپنی طہارت کا یقین ہو، پھر طہارت زائل ہونے کا شک ہونے لگے، تو اصولی طور پر یہی سمجھا جائے گا کہ اس کی طہارت باقی ہے۔ اس کے برعکس جسے عدم طہارت کا یقین ہو، اور طہارت ہونے کا شک ہو، اس کے بارے میں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ حالت حدث میں ہے۔ کپڑے اور مقامات بھی اسی اصول کے تحت آتے ہیں کہ ان میں بھی طہارت ہی اصل ہوگی، ماسوا اس کے کہ نجاست کا یقین ہوجائے۔ اسی کی ایک مثال نماز میں رکعتوں کی تعداد ہے۔ جسے یہ یقین ہو کہ اس نے مثلا تین رکعتیں ادا کی ہیں اور چوتھی کا شک ہو، تو اصولا چوتھی کو معدوم سمجھا جائے گا اور اس شخص پر لازم ہو گا کہ وہ چوتھی رکعت پڑھے۔ اسی طرح ایک مثال طلاق کی ہے۔ جسے یہ شک ہو کہ اس نے اپنے بیوی کو طلاق دی ہے یا نہیں؟ تو اصولا اس کا نکاح باقی رہے گا۔ اسی طرح بہت سے دوسرے مسائل میں بھی یہ اصول کار فرما ہوتا ہے، جو مخفی نہیں ہیں۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، للعلامة أحمد بن يحي النجمي -رحمه الله-.