یہود کی مخالفت اور اس چیز کا ازالہ جس میں مسلمانوں کے لیے کوئی تنگی یا مشقت ہو اس کو دور کرنا مقاصدِ شریعت میں شامل ہے۔ سعید بن یزید جو کہ ثقات تابعین میں سے ہیں انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کےبارے میں پوچھا کہ کیا آپ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے، تاکہ یہ ان کے لیے اس سلسلے میں قابلِ تقلید نمونہ بن جائے؟ یا آپ ﷺ جوتے دور رکھتے کیوں کہ ان میں زیادہ طور پر گندگی اور تکلیف دہ چیزیں لگی ہوتی ہیں! تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان کو جواب دیا کہ: ہاں رسول اللہ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے اور یہ آپ کی سنت مطہرہ سے ہے، یہ کسی خاص جگہ یا مخصوص وقت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، الطبعة: 1427هـ.