سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

Obligatory Acts of Prayer

1 احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ

عَنِ ‌ابْنِ أَبِي أَوْفَى رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ».
عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی٭۔ اے اللہ! ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر اور اس کے بعد بھی تو جو چاہے، اس کی وسعتوں کے برابر۔)
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے، تو فرماتے : "سمع الله لِمَن حمده"۔ یعنی جس نے اللہ کی تعریف کی، اللہ اس کی تعریف کو قبول کرتا ہے اور اسے ثواب عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد ان الفاظ میں اللہ تعالی کی تعریف کرتے : "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" یعنی اللہ کی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر، ان دونوں کے بیچ کی وسعتوں کے برابر اور ان تمام چیزوں کی وسعتوں کے برابر جو اللہ چاہے۔

فوائد
  1. اس ذکر کا بیان جو رکوع سے سر اٹھاتے وقت کہنا مستحب ہے۔
  2. رکوع سے اٹھنے کے بعد اطمینان کے ساتھ سیدھا کھڑا ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اس پورے ذکر کو پڑھنا اسی وقت ممکن ہے، جب آدمی پورے اطمینان کے ساتھ کھڑا ہو۔
  3. یہ ذکر ہر نماز میں مشروع ہے، خواہ فرض ہو یا نفل۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 346) (476)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (11/ 114).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com