عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ».
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ''اس شخص کی نماز نہیں، جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی''۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ سورہ فاتحہ پڑھے بغیر نماز درست نہیں ہوگی۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا نماز کا ایک رکن ہے۔
فوائد
- اگر سورہ فاتحہ پڑھنے کی قدرت ہو تو کوئی دوسری چیز اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔
- جان بوبھ کر، لاعلمی کی بنیاد پر یا بھول جانے کی وجہ سے کسی رکعت میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے، تو وہ رکعت باطل ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ سورہ فاتحہ پڑھنا نماز کا ایک رکن ہے اور نماز کے ارکان کسی بھی صورت میں ساقط نہیں ہوتے۔
- مقتدی امام کو رکوع کی حالت میں پائے، تو اس سے سورہ فاتحہ کی قراءت ساقط ہو جاتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 151) (756). صحيح مسلم (1/ 295) (394). تيسير العلام، للبسام (ص171). تنبيه الأفهام، لابن عثيمين (217).