نمازی سے مطلوب یہ ہے کہ وہ بہترین ہیئت اختیار کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ”اے آدم کی اولاد مسجدوں میں آتے ہوئے زینت اختیار کرو“۔ اور اس لیے کہ بادشاہوں، معززین اور سرداروں سے ملنے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بہترین حالت اور ہیئت کو اختیار کرے۔ ذرا سوچئے کہ پھر جو بادشاہوں کا بادشاہ اور سرداروں کا سردار ہے اس سے کیسے ملنا چاہیے؟ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے نمازی کو اس بات کی تلقین فرمائی کہ وہ اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں حالانکہ اس کے پاس ایسا کپڑا بھی ہو جس سے وہ ان دونوں کو یا ان میں سے ایک کو چھپا سکتا ہو۔ آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اس حال میں نماز ادا کرے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے مناجات کرے۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.