سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز پڑھتے تھے تو مومن عورتیں بڑی بڑی چادروں میں لپٹیں آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوتیں۔ پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) وہ اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں اور اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی انھیں پہچان نہ پاتا۔

عن عَائِشَة رضي الله عنها قالت: (لقد كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الفَجر، فَيَشهَدُ معه نِسَاء مِن المُؤمِنَات، مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثم يَرجِعْن إلى بُيُوتِهِنَّ مَا يُعْرِفُهُنَّ أحدٌ من الغَلَس).
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز پڑھتے تو مومن عورتیں بڑی بڑی چادروں میں لپٹیں آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوتیں۔ پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) وہ اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں اور اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی انھیں پہچان نہ پاتا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ صحابۂ کرام کی خواتین چادریں اوڑھ کر نبی ﷺ کے ساتھ نمازِ فجر میں شریک ہوتیں اور نماز کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں۔ اگرچہ تاریکی میں کچھ اجالے کی آمیزش ہو چکی ہوتی تاہم باقی ماندہ اندھیرے کی بدولت دیکھنے والا انھیں پہچان نہ پاتا تھا۔ اس حدیث میں نمازِ فجر کو اول وقت میں ادا کرنے کی ترغیب ہے۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کے شرائط

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com