سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

برتن

5 احادیث

جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے (کچھ) پی لے، تو اسے سات مرتبہ دھو لے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا». ولمسلم: « أولاهُنَّ بالتُراب».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے (کچھ) پی لے، تو اسے سات مرتبہ دھو لے۔" مسلم کی روایت میں ہے : "پہلی مرتبہ مٹی سے دھویا جائے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جب کتا برتن ميں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھویا جائے۔ سات میں سے پہلی بار مٹی سے دھویا جائے، تاکہ اس کے بعد جب پانی سے دھویا جائے، تو برتن پوری طرح صاف ہو جائے۔ گندگی اور نقصان دہ چيزیں باقی نہ رہیں۔

فوائد
  1. کتے کی رال نجاست مغلظہ ہے۔
  2. کسی برتن میں کتے کے منہ ڈال دینے سے وہ برتن اور اس میں موجود پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔
  3. مٹی سے پاک کرنے اور سات مرتبہ دھونے کا حکم کتے کے منہ ڈالے ہوئے برتن کو صاف کرنے کے لیے ہے۔ اس کے پیشاب، پاخانہ اور اس کے ذریعے دیگر طریقوں سے آلودہ کی گئی چیزوں کو صاف کرنے کے لیے نہيں۔
  4. برتن کو مٹی سے دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ برتن میں پانی ڈال کر اس میں مٹی ملا دی جائے اور اس سے برتن کو دھویا جائے۔
  5. حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ تمام کتوں کے لیےعام ہے، حتیٰ کہ ان کتوں کے لیے بھی جنہيں شريعت نے پالنے کا اختیار دیا ہے۔ جیسے شکار کے لیے، گھر کی نگہبانی کے لیے اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے پالے جانے والا کتے۔
  6. صابن اور اس جیسی دوسری چيزیں مٹی کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے صراحت کے ساتھ مٹی کا ذکر کیا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 45) (172). صحيح مسلم (1/ 234) (279). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 14). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص24).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔

عن كبشة بنت كعب بن مالك -وكانت تحت ابن أبي قتادة-: أن أبا قتادة دخل فسَكَبَتْ له وَضُوءًا، فجاءت هرة فشربت منه، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا ابنة أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم والطوافات».
کبشہ بنت کعب بن مالک (جو ابو قتادہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں) بیان کرتی ہیں کہ ابو قتادہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی انڈیل کر رکھا۔ اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی۔ ابو قتادہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے اچھی طرح پانی پی لیا۔ کبشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا: بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے گھروں میں بکثرت آنے جانے والوں اور بکثرت آنے جانے والیوں میں سے ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وضو شروع کیا تو اسی دوران ایک بلی آ گئی۔ - اور بلی گھروں میں گھس آتی ہے، لوگوں میں گھل مل جاتی ہے اور ان کے پاس آتی جاتی رہتی ہے - چنانچہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے سامنے برتن کو جھکا دیا تا کہ وہ وضو کا پانی پی سکے۔ ایسا کرنے پر ان کی بھتیجی کبشہ بہت حیران ہوئیں۔ کیونکہ یہ وضو کا پانی تھا جس کے لیے پاکیزہ اور پاک کرنے والا ہونا ضروری ہے۔ اس پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ بلی ناپاک نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے پانی پر کوئی اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ تو ان جانوروں میں سے ہیں جو ہر وقت انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

حوالہ

- منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان - طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428. - توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام - مكتبة الأسدي – مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان - مؤسسة الرسالة. - سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت. - سنن الترمذي - محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م. - مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص سونا یا چاندی کے برتن میں پیے، گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے۔

عن أم سلمة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «مَنْ شَرِبَ وفي رواية: «إنَّ الذي يَأكُل أو يَشرَب» في إناءٍ من ذهبٍ أو فضةٍ، فإنما يُجَرْجِرُ في بطنه نارًا مِن جهنَّم».
ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص سونا یا چاندی (کے برتن) سے پیے ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:وہ شخص جو سونا یا چاندی کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہو، گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں ان افراد کو سخت وعید سنائی گئی ہے، جو سونا اور چاندی سے تیار کردہ یا سونا اور چاندی سے ملمع شدہ یا ان دونوں سے تزیین شدہ برتن استعمال کرتے ہیں۔ اس گناہ کے مرتکب شخص کو اس کے پیٹ میں جہنم کا عذاب وارد ہونے کی وجہ سے ڈراؤنی اور ناگوار آواز سنائی جائے گی؛ کیوں کہ یہ عمل کافروں اور متکبروں کی نقالی اور فقرا و محتاجوں کی دل شکنی کے مترادف ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ اسلام، بندۂ مسلم کو اخلاقی گراوٹ اور عیش پرستی سے بچاتا ہے۔ حرمت کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ نقدی مال کے طور پر زمانہ قریب تک سونا چاندی کا چلن رہتا آیا ہے؛ لہذا انھیں برتنرں اور تحفوں وغیرہ کے طور پر اپنانا اور استعمال کرنا ایک طرح سے تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج بنا دینا اور حاجات و ضروریات کی قدر و قیمت کو ناکارہ بنا دینا ہے۔ جب کہ ان کے اپنانے اور استعمال کرنے میں کوئی مفاد کا پہلو بھی نہیں ہے۔ ان برتنوں میں کھانے اور پینے پر اس حدیث کی ممانعت، ہر قسم کی منفعت کو شامل ہے، سوائے اس کے جس کی شریعت نے اجازت دی ہو، جیسے عورتوں کے زیورات۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تطريز رياض الصالحين, فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي, المحقق: د. عبد العزيز بن عبد الله آل حمد, دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض, الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه. فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى, اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء, جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش, الناشر: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء - الإدارة العامة للطبع – الرياض. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ - 1431 هـ. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جارہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“ انھوں نے کہا: یہ مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” اسے پانی اور قرظ پاک کر دیتا ہے۔

عن العالية بنت سُبَيع قالت: كان لي غنم بأُحُدٍ، فوقَع فيها الموت، فدَخَلْتُ على ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم ، فذَكَرْتُ ذلك لها، فقالت لي ميمونة: لو أَخَذْتِ جُلُوَدها فَانْتَفَعْتِ بها. فقالت: َأو يَحِلُّ ذلك؟ قالت: نعم، مرَّ على رسول الله صلى الله عليه وسلم رجال من قريش يَجُرُّون شاة لهم مثل الحمار، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لو أخذتم إِهَابَهَا». قالوا: إنها مَيْتَة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يُطَهِّرها الماء والقَرَظ».
عالیہ بنت سبیع بیان کرتی ہیں کہ احد کی جانب میری بکریاں ہوتی تھیں۔ ہوا یہ کہ وہ مرنا شروع ہو گئیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کے چمڑے اتار لیتی تو ان سے فائدہ اٹھاسکتی تھی۔ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ حلال ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ گدھے کی طرح ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“، انھوں نے کہا: یہ مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور قرظ (کیکر کی مانند ایک درخت ہوتا ہو جو چمڑا صاف کرنے میں استعمال ہوتا ہے) پاک کر دیتا ہے۔“
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

عالیہ بنت سبیع رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بکریاں تھیں اور وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے مرنا شروع ہو گئیں۔ وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور انہیں بتایا تو انھوں نے ان کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا بکری کے مرنے کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے؟ (میمونہ رضی اللہ عنہا نے )جواب دیا :ہاں۔ پھر انھوں نے اپنی بات کا استدلال اس سے ملتے جلتے ایک واقعہ سے کیا اور وہ یہ تھا کہ: قریش کے کچھ لوگ نبی کریمﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے جیسے کہ گدھا ہو تاکہ اس کو دور کہیں پھینک دیں اور اس سے خلاصی حاصل کریں یا پھر وہ اپنی جسامت میں گدھے کی طرح تھی(موٹی تازی)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ”اس کو پھینکنے کے بجائے اس سے نفع حاصل کرلو۔“ انہوں نے کہا :یہ مردار ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ مردہ ہے اور ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ مردار کے تمام اجزاء نجاست کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اس کو پانی اور قرظ سے دباغت دینے سے نجس مادے ختم ہو جاتے ہیں۔“

حوالہ

سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود السجستاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، صيدا، بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى 1421هـ، 2001م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م. شرح سنن أبي داود، عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کا تار لگا کر اسے جوڑ دیا۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن قَدَحَ النبي صلى الله عليه وسلم انْكَسَرَ، فاتَّخَذَ مكان الشَّعْبِ سِلْسِلَةً من فِضة.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کا تار لگا کر اسے جوڑ دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کا ایک برتن تھا جس میں آپ ﷺ پانی پیا کرتے تھے۔ یہ برتن ٹوٹ گیا تو آپ ﷺ نے چاندی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے ٹوٹے ہوئے دونوں اطراف کو باہم جوڑ دیا۔

حوالہ

تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، محمد بن صالح العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، الطبعة: الأولى 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1432هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com