سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

دورانیہ مناسبتیں

3 احادیث

بے شک زمانہ پلٹ کر اسی حالت پر آگیا جیسا اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں تین مسلسل مہینے؛ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرّم، اور (چوتھا) رجب مُضَر ہے۔

عن أبي بكرة -ضي الله عنه- مرفوعاً: «إِنَّ الزمانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ والأَرْضَ: السنةُ اثنا عَشَرَ شَهْرًا، منها أربعةٌ حُرُمٌ: ثلاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو القَعْدَةِ، وذُو الحَجَّةِ، والمحرمُ، ورَجَبُ مُضَرَ الذي بين جُمَادَى وشَعْبَانَ، أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟» قلنا: اللهُ ورسولُهُ أَعْلَمُ، فسكتَ حتى ظننا أنه سَيُسَمِّيهِ بغير اسمه، قال: «أَلَيْسَ ذَا الحَجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلَى. قال: «فأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قلنا: اللهُ ورسولُهُ أَعْلَمُ، فسكتَ حتى ظننا أنه سُيَسَمِّيهِ بغير اسمه. قال: «أَلَيْسَ البَلْدَةَ؟» قلنا: بلى. قال: «فأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللهُ ورسولُهُ أَعْلَمُ، فسكتَ حتى ظَنَنَّا أنه سيسميه بغير اسمه. قال: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قلنا: بَلَى. قال: «فَإِّنَّ دِمَاءَكُمْ وأَمْوَالَكُمْ وأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا في بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَونَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُم رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يكونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ»، ثُمَّ قال: «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قلنا: نعم. قال: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ».
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک زمانہ پلٹ کر اسی حالت پر آگیا جیسا اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں تین مسلسل؛ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، اور (چوتھا) رجب مُضَر جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ (آپ ﷺ نے پوچھا بتاؤ) یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ اس پر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ آپ ﷺ اسے کوئی اور نام دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں (یہ ذوالحجہ ہی ہے)۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم گمان کرنے لگے کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں (یہ حرمت والا شہر ہی ہے)۔ پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔اس پر آپﷺ خاموش ہو گئے۔ یہاں تک کہ ہمیں خیال گزرا کہ آپ ﷺ اس دن کا نام تبدیل کرکے کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں (یہ یوم النحر ہی ہے)۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاریں جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں اور اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔ خبردار! یہاں موجود شخص غیر موجود تک یہ پیغام پہنچا دے۔کیونکہ بعض وہ لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جائے اس بات کو سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ کیا میں نے (احکامِ الہی کو) پہنچا دیا۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ ہم نے جواب دیا: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! تم گواہ رہنا.
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے یوم النحر کو خطبہ دیا۔ یہ حجۃ الوداع کا موقع تھا۔ نبی ﷺ نے خبر دی کہ اس سال میں اتفاقاً ’نسئ‘ اللہ عزّ و جلّ کی طرف سے مقررہ حرمت والے مہینوں کے موافق ہو گئی ہے۔ کیونکہ جاہلیت میں انہیں بدل دیا گیا تھا جب کہ لوگ نسئ کا طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے حرمت والے مہینے کو حلال کر دیتے اور حلال مہینے کو حرمت والا قرار دے دیتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے جو کہ یہ ہیں: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذو القعدہ، ذو الحجہ۔ یہ مہینے کل بارہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس وقت سے اپنے بندوں کے لیے مہینے قرار دے رکھا ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے ہیں جن میں سے تین تو مسلسل آتے ہیں اور ایک الگ سے آتا ہے۔ تین مسلسل آنے والے مہینے ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے جن میں لڑنا حرام ہے اور نہ ہی ان میں یہ جائز ہے کہ کوئی کسی پر ظلم و زیادتی کرے۔ کیونکہ یہ مہینے لوگوں کے بیت اللہ کی طرف حج کے لیے جانے کے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حرمت والا قرار دیا تاکہ ان مہینوں میں جب کہ لوگ بیت اللہ کی طرف رواں دواں ہوں قتال نہ ہو۔ یہ اللہ عزّ و جلّ کی خاص حکمت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اور رجب مُضَر جو جمادی الاخری اور شعبان کے مابین ہے۔ یہ چوتھا حرمت والا مہینہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس میں عمرہ کیا کرتے تھے اور انہوں نے رجب کے مہینے کو عمرہ کے لیے اور تین مہینوں کو حج کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ چنانچہ یہ مہینہ بھی حرمت والا ہو گیا جس میں قتال کرنا حرام ہے جیسا کہ یہ ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم میں حرام ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ کون سا شہر ہے؟ یہ کون سا دن ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے یہ باتیں انہیں متوجہ اور چوکنا کرنے کے لیے پوچھیں کیونکہ معاملہ بہت بڑا تھا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ نبی ﷺ کا مہینے کے بارے میں پوچھنا انہیں بعید از امکان معلوم ہو رہا تھا جب کہ آپ ﷺ کو اس کا بخوبی علم تھا کہ یہ ذو الحجہ ہے۔ تاہم ادب کے تقاضے کے تحت انہوں نے یہ نہ کہا کہ یہ ذو الحجہ کا مہینہ ہے کیونکہ یہ بات سب کو معلوم تھی۔ بلکہ ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ کیونکہ انسان جب بول کر چپ ہو جائے تو لوگ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ خاموش ہو گئے۔ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ جب ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھ دیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذو الحجہ نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یہ ذو الحجہ ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟ وہ جانتے تھے کہ یہ مکہ ہے تاہم رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے یہ نہ کہا کہ یا رسول اللہ! یہ بات تو سب کو معلوم ہے، آپ اس کے بارے میں کیونکر پوچھ رہے ہیں؟ بلکہ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہونے لگا کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھ دیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ بلدہ نہیں؟ بلدہ مکہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یہ بلدہ ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں جیسا کہ انہوں نے پہلے سوال کے جواب میں کہا تھا۔آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ یوم النحر نہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ! کیوں نہیں، یہ یوم النحر ہی ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ مکہ حرام ہے، ذو الحجہ کا مہینہ بھی حرام ہے اور یوم النحر بھی حرام ہے۔یعنی یہ سب حرمت والے اور محترم ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے ایسے ہی حرمت والی ہیں جیسے تمہارے اس دن کی اس شہر میں اس مہینے میں حرمت ہے۔ آپ ﷺ نے ان تینوں یعنی جانوں، اموال اور عزتوں کے حرام ہونے پر زور دیا کہ یہ سب حرام ہیں۔ "الدماء" کے لفظ میں جانیں اور اس سے کمتر سب اشیاء آتی ہیں۔ اموال میں کم اور زیادہ سب قسم کے اموال آتے ہیں۔ عزتوں (کی پامالی) میں زنا، لواطت اور تہمت سب گناہ آتے ہیں اور شاید غیبت اور گالم گلوچ بھی اس میں شامل ہیں۔ مسلمان پر حرام ہے کہ وہ اپنے بھائی کی ان تین اشیاء کی حرمت کو پامال کرے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:" خبردار! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔" کیونکہ مسلمان اگر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگیں تو وہ کافر ہو جاتے ہیں اس لیے کہ مسلمان کے خون بہانے کو صرف کافر ہی حلال سمجھتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ موجود لوگ غیر موجود لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔ یعنی جو بھی آپ ﷺ کے سامنے موجود تھا اور جس نے آپ ﷺ کا خطبہ سنا وہ باقی امت تک اسے پہنچا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بسا اوقات جس تک بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ بات کو ذہن نشین رکھتا ہے۔ اس دن جو لوگ موجود تھے انہیں یہ رسول اللہ ﷺ کی وصیت تھی اور اسی طرح قیامت تک کے لیے ہر اس شخص کو یہ وصیت ہے جو آپ ﷺ کی حدیث کو سنے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا؟ کیا میں نے پہنچا دیا؟ آپ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھ رہے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں یعنی آپ نے پہنچا دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:اے اللہ! تو گواہ رہ۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، ط1، نشر: دار ابن الجوزي، 1415ه. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں ۔اور وہ ایام منیٰ تھے۔

عن عائشة رضي الله عنها أن أبا بكر رضي الله عنه ، دخل عليها وعندها جاريتان في أيام منى تُدَفِّفَانِ، وتضربان، والنبي صلى الله عليه وسلم مُتَغَشٍّ بثوبه، فانتهرهما أبو بكر، فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن وجهه، فقال: «دعهما يا أبا بكر؛ فإنها أيام عيد»، وتلك الأيام أيام منى، وقالت عائشة: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة وهم يلعبون في المسجد، فزجرهم عمر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «دعهم أَمْنًا بني أَرْفِدَة».
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں ( منیٰ کے دنوں میں ) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور نبی کریم ﷺ چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ ﷺ نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں، اور وہ ایام منیٰ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے مجھے چھپا رکھا تھا اور میں حبشہ کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں تیروں سے کھیل رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جانے دو اور ان سے فرمایا اے بنو ارفدہ! تم بے فکر ہو کر کھیل دکھاؤ۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث میں شریعت کی آسانی و کشادگی اور اس بات کا بیان ہے کہ شریعت کا منہج ان بے جا سختی اور غلو کرنے والوں کے برخلاف ہے جو سمجھتے ہیں کہ دین شدت اور سختی کا نام ہے۔ حدیث شریف میں ایامِ عید میں دف بجانے اور گانے کے جواز کا بیان ہے کیوں کہ کچھ بچیوں نے نبی ﷺ کے سامنے ایسا کیا اور جس نے انہیں ایسا کرنے سے منع کرنا چاہا اسے آپ ﷺ نے منع کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح نیزوں وغیرہ سے کھیلنے کا بھی یہی حکم ہے۔ اورحبشی لوگ تو فطری طور پرکھیل کود اور (خوشی سے) جھومنےکے دلدادہ ہوتے ہیں چنانچہ نبی ﷺ نے مسجد ہی میں انہیں اپنے اس شوق کو پورا کر لینے کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ نے یہ اجازت ایک اہم شرعی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے مرحمت فرمائی جس کی طرف حدیث کے بعض الفاظ میں اشارہ موجود ہے اور وہ مندرجہ ذیل حکمتیں ہیں: 1۔ وہ گروہ جو اسلام کی شدت اور سختی کے ڈر سے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے انہیں یہ باور کرانا کہ اسلام کشادگی اور وسعت پر مبنی دین ہے، خاص طور پر یہودیوں کو جو خود بھی اس سے گریزاں رہتے اور دوسروں کو بھی اس سے منع کرتے۔اس لیے حدیث کے بعض الفاظ میں آیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نےانہیں اس سے روکا تو آپ ﷺ نےفرمایا: "انہیں ایسا کرنے دو تا کہ یہودیوں کو معلوم ہو کہ ہمارے دین میں وسعت ہے اور میں کشادگی پر مبنی دینِ حنيف کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں"۔ 2- ان كایہ کھیل کود عید کے دن تھا ۔اور عید کے ایام خوشی و مسرت کے ایام ہوتے ہیں جن میں مباحات میں توسع ہوتی ہے۔ 3۔ یہ ایک مردانہ کھیل تھا جس میں خشونت، جوش اور اظہارِ شجاعت تھا۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003 م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ. الموسوعة الفقهية الكويتية، وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية، الكويت، الطبعة: (من 1404- 1427 هـ) الأجزاء (1- 23) الطبعة الثانية، دار السلاسل، الكويت، الأجزاء (24- 38) الطبعة الأولى، مطابع دار الصفوة، مصر، الأجزاء (39 - 45) الطبعة الثانية، طبع الوزارة. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، علي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م. تاج العروس من جواهر القاموس، محمّد أبو الفيض الملقّب بمرتضى الزَّبيدي، نشر: دار الهداية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com