عن ابن شماسة المهري قال: حَضَرنَا عَمرو بن العاص رضي الله عنه وهُو فِي سِيَاقَةِ الْمَوتِ، فَبَكَى طَوِيلاً، وَحَوَّلَ وَجهَهُ إِلَى الجِدَارِ، فَجَعَلَ ابنَهُ، يقول: يَا أَبَتَاهُ، أَمَا بَشَّرَكَ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- بكَذَا؟ أمَا بشَّركَ رسول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- بِكَذَا؟ فَأَقبَلَ بِوَجهِهِ، فقَالَ: إِنَّ أَفضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الله، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رسولُ الله، إِنِّي قَدْ كُنتُ عَلَى أَطْبَاقٍ ثَلاَثٍ: لَقَدْ رَأَيتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- مِنِّي، وَلاَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ قَدْ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ، فَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الحَالِ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلَمَّا جَعَلَ اللهُ الإِسْلاَمَ فِي قَلْبِي أَتَيتُ النَبيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم-، فَقُلتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ فَلِأُبَايِعُكَ، فَبَسَطَ يَمِينَهُ فَقَبَضْتُ يَدِي، فقال: «مَا لَكَ يَا عَمرُو؟» قُلتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قال: «تَشْتَرِطُ مَاذَا؟» قُلتُ: أَنْ يُغْفَرَ لِي، قال: «أَمَا عَلِمتَ أَنَّ الإِسْلاَمَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ، وَأَنَّ الهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا، وَأَنَّ الحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟» وَمَا كَان أَحَدٌ أَحبَّ إِلَيَّ مِنْ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- وَلاَ أَجَلَّ فِي عَينِي مِنْهُ، وَمَا كُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَينِي مِنْهُ؛ إِجْلاَلاً لَهُ، وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ؛ لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ أَمْلَأُ عَينِي مِنْهُ، وَلَوْ مِتُّ عَلَى تِلْكَ الحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا؟ فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَلاَ تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلاَ نَارٌ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي، فَشُنُّوا عَلَيَّ التُرَابَ شَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَولَ قَبرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُور، وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا، حتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُم، وَأَنْظُر مَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي.
ابن شماسۃ المہری سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ قریب المرگ تھے کہ ہمارے پاس آئے، کافی دیر تک روتے رہے اور اپنا رُخ دیوار کی طرف پھیر لیا اور ان کے بیٹے کہنے لگے، ابا جان! کیا آپ کو اللہ کے رسول ﷺ نے یہ یہ خوشخبری نہیں دی؟ کیا آپ کو اللہ کے رسول ﷺ نے یہ یہ خوشخبری نہیں دی؟ پھر متوجہ ہوئے اور کہا کہ ہمارے ہاں سب سے افضل لاَ إِلَهَ إِلاَّ الله مُحَمَّد رسولُ الله کی گواہی دینا ہے۔ مجھ پر تین قسم کے حالات گزرے ہیں۔ (پہلی حالت) میرے خیال میں آپ ﷺ سے بغض رکھنے میں مجھ سے زیادہ کوئی سخت نہیں تھا، نہ ہی کسی کو مجھ سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ مجھے قدرت ہو تو میں آپ کو قتل کردوں۔ اگر میں اس حال میں مرتا تو میں جہنمی ہوتا۔ (دوسری حالت) جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا اپنے ہاتھ پھیلا ئیں، تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا، تو میں نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، آپ نے فرمایا: عمرو تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا میں شرط لگانا چاہتا ہوں۔ فرمایا: کیا شرط لگانا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: شرط یہ ہے کہ اسلام لانے سے میری مغفرت کردی جائے گی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام چیزوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کردیتی ہے اور حج پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے؟“ پھر میری نظر میں آپ ﷺ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا اور نہ ہی میرے لئے آپ سے کوئی بڑا تھا۔ میں آپ کے جلال کی وجہ سے آپ کو جی بھر کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اگر مجھ سے پوچھا جاتا کہ میں آپ کے اوصاف بیان کروں تو میں بیان نہیں کرسکتا تھا، اس لئے کہ میں جی بھر کر آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اگر میں اس حال میں مرتا تو مجھے امید تھی کہ جنتی ہوتا۔ (تیسری حالت) پھر کچھ اور چیزیں ہماری زندگی کا حصہ بن گئی، میں نہیں جانتا کہ ان میں میرا کیا حال ہے؟ لہذا جب میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ کرنے والی اور آگ میرے قریب نہ لانا، جب تم مجھے دفن کر لو تو میری قبر پر پانی کے چھینٹے چھڑک دینا، پھر اتنی دیر تک میری قبر پر کھڑے ہو جانا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے، تاکہ میں تمہاری وجہ سے مانوس رہوں اور اپنے رب کے فرشتوں کے سوال کا انتظار کروں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث خیر کی خوشخبری اور بھلائی کو متضمن ہے۔ اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کی موت کے وقت ان کے کچھ دوست آئے تو یہ بہت زیادہ روئے اور اپنا چہرہ دیوارکی طرف پھیر دیا،وہ موت کی کشمکش میں تھے عنقریب دنیا کو چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ ان کے بیٹے نے کہا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کو تو نبی ﷺ جنت کی خوشخبری دے چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے پیارے بیٹے! میری تین حالتیں رہی ہیں، پھر انہوں نے تینوں حالتیں ذکر کیں کہ وہ آپ ﷺ سے بہت زیادہ بغض رکھا کرتے تھے، روئے زمین پر ان سے زیادہ کوئی آپ ﷺ سے بغض نہیں رکھتا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ اگر موقع ملے تو وہ آپ ﷺ کو قتل کر دیں، یہ بہت سخت کفر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی محبت پیدا کی،تو آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول! اپنا ہاتھ پھیلا دیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرلوں، آپ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن عمرو بن العاص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، یہ تکبّر کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ آنے والے واقعے کی پختگی کے لیے تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کہا اے اللہ کے رسول! میں ایک شرط پر اسلام قبول کروں گا۔ آپ نے فرمایا:کیا شرط ہے؟ کہا شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ کفر اور پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردے گا۔ اس کی عمرو کو سب سے زیادہ فکر دامن گیر تھی۔ ان کا یہ گمان تھا کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف نہیں کرے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کرتی ہے اور حج پچھلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں۔
جہاں تک اسلام لانے سے گزشتہ گناہوں کا معاف کرنا ہے تو یہ قرآنِ کریم میں مذکور ہے {قل للذين كفروا إن ينتهوا يغفر لهم ما قد سلف وإن يعودوا فقد مضت سنت الأولين}۔ [الأنفال: 38]۔ ترجمہ:’’آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے‘‘۔
الهجرة: جب انسان اس علاقے سے ہجرت کرے جس میں وہ رہتا ہے اور وہاں کفر کا غلبہ ہو، تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حج بھی اپنے سے پہلے کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے۔
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیعت کی اور لوگوں میں سب سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت کرنے والے بنے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کے جلال کی وجہ سے آپ کو مسلسل دیکھ نہیں سکتے تھے۔ پاک ہے دلوں کو پھیرنے والی ذات! کہ کل تک وہ آپ سے سب سے زیادہ بغض کرنے والے تھے اور آپ کو قتل کرنے کے خواہش مند تھے اور اب وہ آپ کے جلال کی وجہ سے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتے، اور نہ ہی آپ کی صفات بیان کر سکتے ہیں اس لیے کہ آپ ﷺ کے خوف سے آپ کو پوری طرح دیکھا ہی نہیں، جو پوری طرح ادراک کرسکیں۔ حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ اگر میں پہلی حالت پر مرتا تو جہنمی ہوتا۔ کہتے تھے اگر میں دوسری حالت پرمرتا تو مجھے اپنے جنتی ہونے کی امید تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی احتیاط کو دیکھیے کہ فرمایا اگر پہلی حالت پر مرتا تو یقیناً جہنمی ہوتا اور اگر دوسری حالت پر مرتا تو مجھے اپنے جنتی ہونے کی امید تھی۔ یہ نہیں کہا کہ میں جنتی ہوتا۔ اس لیے کہ جنتی ہونے کی گواہی دینا بہت سخت ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے امارت اورقیادت کے بہت سارے امورسنبھالے اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی لڑائیوں میں کچھ واقعات پیش آئے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ معروف تھا کہ عرب کے ذہین وفطین شخص ہیں، اورفرماتے کہ: مجھے دوسری حالت کے بعد خوف ہے کہ کہیں میرے اعمال کا احاطہ نہ کیا جائے۔
پھر انہوں نے نصیحت کی کہ ان کی موت کے بعد کوئی عورت نوحہ نہ کرے۔ النائحة: وہ عورت جو میت پر نوحہ کرتی ہے اور اس پر نوحہ خواں کبوتر کی طرح خوب روتی ہے۔ اور حکم دیا کہ انہیں دفن کرنے کے بعد اتنی مقدار قبر پر رُکے رہنا جتنی مقدار میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکے، تاکہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے آجائیں جو مُردے کو دفنانے کے بعد آتے ہیں۔ مُردے کو دفنانے کے بعد دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے تین سوال کرتے ہیں؛ تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے اہلِ خانہ کو اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کرنے کی مقدار ٹھہرنے کا حکم فرمایا تاکہ وہ ان کی وجہ سے مانوس رہے۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ مُردہ قبر میں اپنے گھر والوں کو محسوس کرتا ہے۔ آپ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ لوگ جب مُردے کو دفنا کر واپس لوٹتے ہیں تو مُردہ لوگوں کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔ آپ ﷺ سے حسن درجے کی حدیث میں یہ منقول ہے کہ مُردے کو دفنانے کےبعد قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ’’اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی مانگو کیونکہ اب اس سے سوال کیا جائے گا‘‘۔ لہٰذا میت کو دفنانے کے بعد اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تین دفعہ اللهم ثبته اورتین دفعہ اللهم اغفر له کہے۔ کیونکہ آپ ﷺ جب سلام کرتے تو تین دفعہ کرتے اور جب دعا کرتے تو بھی تین دفعہ کرتے۔
خلاصہ یہ کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری سنائی ہے۔ یہ خیر کی بشارت اور مبارک باد ہے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، أن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه أُتي بطعام وكان صائمًا، فقال: قُتِل مُصعب بن عمير رضي الله عنه وهو خيرٌ مني، فلم يوجد له ما يُكفَّن فيه إلا بُردة إن غُطِّيَ بها رأسه بَدَت رِجْلاه؛ وإن غُطِّيَ بها رجلاه بدا رأسه، ثم بُسِط لنا مِنَ الدنيا ما بُسِط، أو قال: أُعْطِينا من الدنيا ما أُعطِينا، قد خَشِينَا أن تكون حَسَنَاتُنا عُجِّلَت لنا، ثم جعل يبكي حتى ترك الطعام.
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے روايت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا جب کہ آپ روزے سے تھے۔ آپ نے فرمایا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وه مجھ سے بہتر تھے۔ ان کے کفن کے لیے صرف ايک چادر ميسر آئی، جس سے اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا توان کے پير کھل جاتے اور اگر پير ڈھانپے جاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ پھر ہمارے لیے دنیا فراخ کردی گئی جو تم ديکھ رہے ہو، یا یہ فرمایا: ہمیں دنیا اتنی عطا کردی گئی ہے جو ظاہر ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا؟ پھر رونے لگے يہاں تک کہ کھانا بھی چھوڑ ديا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک دن روزے سے تھے۔ جب افطار کا وقت آیا تو ان کے لئے کھانا لایا گیا۔ روزہ دار کو عام طور پر کھانے کی چاہت ہوتی ہے۔ لیکن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اولين صحابۂ کرام کے احوال کو یاد کیا۔ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ خود بھی اولين اور مہاجرين صحابہ میں سے تھے، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو کم تر سمجھتے ہوئے فرمایا کہ: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تواضع اور انکسارِ نفس میں مجھ سے بہتر تھے، یا وہ فقر اور صبر کو اختیار کرنے کے اعتبار سے مجھ سے بہتر تھے۔ ورنہ علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ عشرۂ مبشرہ (انہيں ميں سے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ہيں) باقی صحابہ سے افضل ہیں۔
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے قبل اپنے والدین کے ساتھ مکہ میں رہتے تھے اور ان کے والدین بہت مالدار تھے۔ ان کے ماں باپ انہيں نو جوان لڑکوں کے بہترین لباس پہناتے تھے۔ انہوں نے بہت لاڈ پیار سے انہں پالا تھا، لیکن جب وہ اسلام لائے تو والدین نے انہیں چھوڑ دیا اور اپنے سے دور کردیا۔ یہ مہاجرین میں سے تھے، ان کے بدن پر پیوند لگے کپڑے رہتے تھے، جب کہ پہلے یہ اپنے والدین کے ساتھ مکہ میں بہترین کپڑے پہنا کرتے تھے، لیکن انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرکے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں۔
اُحد کے دن نبی ﷺ نے انہیں جھنڈا دیا اور وه اس میں شہید ہوگئے۔ ان کے پاس ایک چادر تھی، اس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو کپڑا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان کے پیر نظر آتے، اور اگر ان کے پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا۔ تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے ان کا سر ڈھانپ دیا جائے اوران کے پیر اذخر گھاس سے ڈھانپ دیے جائیں۔ اذخر ایک معروف گھاس ہے۔
حدیث مذکور میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کا حال یاد فرما رہے ہیں۔ پھر فرماتے ہيں کہ وہ لوگ چلے گئے اور ان کے بعد کے لوگوں پر اللہ نے جو دنيا کے مال و غنيمت کی فراخی کردی ہے اس سے وہ لوگ محفوظ ہوگئے ۔ جيسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا﴾ ”اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وہ حاصل کريں گے“۔
پھر عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا؟“ یعنی ہمیں خوف ہے کہ کہيں ہم ان لوگوں کے زمرے میں تو نہيں داخل ہوگئے جن کے بارے میں کہا گیا ہے: ﴿مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا﴾ ”جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں، بالآخر اس کے لیے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا“۔ یا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا﴾ ”تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے“۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ ان سب کی وجہ سے جب ان پر خوف غالب رہتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو ڈر لاحق ہوا کہ کہیں ان کی نیکیوں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں جلدی نہ دے دیا گیا ہو۔ اسی لیے وہ اس خوف اور خدشے سے رونے لگے کہ کہيں ایسا نہ ہو کہ وہ پہلے نیک لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہوسکيں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے کھانا چھوڑ دیا۔
حوالہ
صحيح البخاري، المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة ، بيروت، الطبعة الأولى: 1397 هـ 1977 م، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 1987م.
شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426 هـ.
رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، المؤلف: علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان
الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي خبيب -بضم الخاء المعجمة- عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما ، قال: لما وقف الزبير يوم الجمل دعاني فقمت إلى جنبه، فقال: يا بني، إِنَّهُ لاَ يُقْتَلُ اليوم إلا ظالم أو مظلوم، وإني لا أُرَانِى إلا سأقتل اليوم مظلوما، وإن من أكبر همي لديني، أفترى دَيْنَنَا يُبقي من مَالِنا شيئا؟ ثم قال: يا بني، بِعْ مَا لَنا واقض ديني، وأوصى بالثلث وثلثه لبنيه، يعني لبني عبد الله بن الزبير ثلث الثلث. قال: فإن فَضَلَ من مَالِنَا بعد قضاء الدين شيء فثلثه لبنيك. قال هشام: وكان بعض ولد عبد الله قد وَازَى بعض بني الزبير خُبَيْبٌ وعَبَّادٌ، وله يومئذ تسعة بنين وتسع بنات. قال عبد الله: فجعل يوصيني بدينه ويقول: يا بني، إن عجزت عن شيء منه فاستعن عليه بمولاي. قال: فوالله ما دريت ما أراد حتى قلت: يا أبت من مولاك؟ قال: الله. قال: فوالله ما وقعت في كربة من دينه إلا قلت: يا مولى الزبير اقض عنه دينه فيقضيه. قال: فقتل الزبير ولم يَدَع دينارا ولا درهما إلا أَرَضِينَ ، منها الغابة وإحدى عشرة دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر. قال: وإنما كان دينه الذي كان عليه أن الرجل كان يأتيه بالمال، فيستودعه إياه، فيقول الزبير: لا، ولكن هو سلف إني أخشى عليه الضَّيْعَةَ ،وما ولي إمارة قط ولا جباية ولا خراجا ولا شيئا إلا أن يكون في غزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أو مع أبي بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم قال عبد الله: فحسبت ما كان عليه من الدين فوجدته ألفي ألف ومئتي ألف! فلقي حكيم بن حزام عبد الله بن الزبير، فقال: يا ابن أخي، كم على أخي من الدين؟ فكتمته وقلت: مائة ألف. فقال حكيم: والله ما أرى أموالكم تسع هذه. فقال عبد الله: أرأيتك إن كانت ألفي ألف ومئتي ألف؟ قال: ما أراكم تطيقون هذا، فإن عجزتم عن شيء منه فاستعينوا بي، قال: وكان الزبير قد اشترى الغابة بسبعين ومئة ألف، فباعها عبد الله بألف ألف وستمئة ألف، ثم قام فقال: من كان له على الزبير شيء فليوافنا بالغابة، فأتاه عبد الله بن جعفر، وكان له على الزبير أربعمئة ألف، فقال لعبد الله: إن شئتم تركتها لكم؟ قال عبد الله: لا، قال: فإن شئتم جعلتموها فيما تؤخرون إن إخرتم، فقال عبد الله: لا، قال: فاقطعوا لي قطعة، قال عبد الله: لك من هاهنا إلى هاهنا. فباع عبد الله منها فقضى عنه دينه وأوفاه، وبقي منها أربعة أسهم ونصف، فقدم على معاوية وعنده عمرو بن عثمان، والمنذر بن الزبير، وابن زَمْعَةَ ، فقال له معاوية: كم قُوِّمَتِ الغابة؟ قال: كل سهم بمئة ألف، قال: كم بقي منها؟ قال: أربعة أسهم ونصف، فقال المنذر بن الزبير: قد أخذت منها سهما بمئة ألف، قال عمرو بن عثمان: قد أخذت منها سهما بمئة ألف. وقال ابن زمعة: قد أخذت سهما بمئة ألف، فقال معاوية: كم بقي منها؟ قال: سهم ونصف سهم، قال: قد أخذته بخمسين ومئة ألف. قال: وباع عبد الله بن جعفر نصيبه من معاوية بستمئة ألف، فلما فرغ ابن الزبير من قضاء دينه، قال بنو الزبير: اقسم بيننا ميراثنا، قال: والله لا أقسم بينكم حتى أنادي بالموسم أربع سنين: ألا من كان له على الزبير دين فليأتنا فلنقضه. فجعل كل سنة ينادي في الموسم، فلما مضى أربع سنين قسم بينهم ودفع الثلث. وكان للزبير أربع نسوة، فأصاب كل امرأة ألف ألف ومئتا ألف، فجميع ماله خمسون ألف ألف ومئتا ألف.
ابو خُبیب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا۔ میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے کہا بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ رہے گا؟ پھر انہوں نے کہا: بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے میرا قرض ادا کر دینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی وصیت کی اور اس تہائی کے تیسرے حصے کی وصیت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لیے کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے مال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کے تہائی کا تیسرا حصہ تمہارے بچوں کے لیے ہو گا۔ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مولا سے اس کی ادائیگی میں مدد چاہنا۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا (کیونکہ مولا کا لفظ ذومعنی ہے) میں نے پوچھا کہ ابا جان! آپ کے مولا کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ! عبداللہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کی قسم! ان کا قرض ادا کرنے میں جب بھی دشواری پیش آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی کہ اے زبیر کے مولا! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور اللہ قرض کی ادائیگی کی صورت پیدا فرما دیتا۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ (اسی موقع پر) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ (جنگل) کی زمین بھی شامل تھی اس کے علاوہ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے، دو مکان بصرہ میں تھے‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ میں امانت نہیں رکھ سکتا البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے (نہ کہ بطور امانت کیونکہ امانت کی ضمان نہیں ہوتی)۔ اس لیے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ ضائع نہ ہو جائے۔ زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ ہی وہ ٹیکس اور خراج وصول کرنے پر کبھی ان کا تقرر ہوا اور نہ کبھی کوئی دوسرا عہدہ ان کے پاس رہا تھا۔ البتہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ جہاد میں ضرور شرکت کی تھی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو یہ بائیس لاکھ بنی۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملے تو دریافت کیا: بیٹے! میرے (دینی) بھائی پر کتنا قرض ہے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ ایک لاکھ۔ اس پر حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو نہیں سمجھتاکہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اگر قرض بائیس لاکھ ہو تو پھر آپ کی کیا رائے ہو گی؟ انہوں نے فرمایا پھر تو یہ اسے ادا کرنا تمہاری برداشت سے بھی باہر ہے۔ خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے مدد طلب کرنا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آ کر ہم سے مل لے۔ چنانچہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے جن کا زبیر رضی اللہ عنہ پر چار لاکھ روپیہ قرض تھا۔ انہوں نے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیش کش کی کہ اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں۔ لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میرے قرض کو تم آخر میں دے دینا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی یہی کہا کہ تاخیر کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ آخر انہوں نے کہا کہ پھر اس زمین میں میرے حصے کا قطعہ مقرر کر دو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ یہاں سے یہاں تک لے لیجئے۔ (راوی کا ) بیان ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس جائیداد کو فروخت کر کے زبیر رضی اللہ عنہ کا سارا قرض ادا کر دیا۔ اور اس میں سے ساڑھ چار حصے پھر بھی بچ رہے۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں (شام) تشریف لے گئے۔ وہاں ان کے پاس عمرو بن عثمان ‘ منذر بن زبیر اور ابن زمعہ بھی موجود تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائیداد کی قیمت کتنی لگی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ ہر حصے کی قیمت ایک لاکھ مقرر ہوئی تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اب باقی کتنے حصے رہ گئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار حصے۔ اس پر منذر بن زبیر نے کہا کہ میں ایک حصہ ایک لاکھ میں لیتا ہوں۔ عمرو بن عثمان نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ کے عوض میں لیتا ہوں۔ ابن زمعہ نے کہا کہ ایک لاکھ میں ایک حصہ میں بھی لیتا ہوں۔ اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اب کتنے حصے باقی بچے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ حصہ! معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اسے میں ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں۔ راوی کا بیان ہے کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا۔ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما قرض کی ادائیگی کر کے فارغ ہو چکے تو زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد نے کہا کہ اب ہماری میراث ہم میں تقسیم کر دیجیے۔ لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: اللہ کی قسم! میں تب تک تمہارے مابین میراث تقسیم نہیں کروں گا جب تک چار سال تک ایامِ حج میں اعلان نہ کرا لوں کہ جس شخص کا بھی زبیر رضی اللہ عنہ پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے، ہم اس کا قرض ادا کریں گے۔ چنانچہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے تو انہوں نے ان کے مابین میراث تقسیم کر دی اور تہائی حصہ ادا کردیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویاں تھیں جن میں سے ہر بیوی کے حصے میں بارہ لاکھ کی رقم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی کل جائیداد پانچ کروڑ دو لاکھ مالیت کی ہوئی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جنگ جمل کے موقع پر جو کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کے معاملے پر ہوئی تھی، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ میں مظلوم شہید کر دیا جاؤں گا۔ مجھے جس چیز کی پرواہ ہے وہ میرے قرض ہیں جو میرے اوپر چڑھے ہوئےہیں، لھٰذا تم انھیں میری طرف سے ادا کر دینا۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قرض اتنے زیادہ تھے کہ وہ ان کے سارے مال کو محیط تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے بیٹے کے بچوں (پوتوں) کے لیے وصیت کی۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔ اس لیے انہوں نے تہائی مال کی وصیت کا ایک تہائی حصہ ان کے لئے مختص کر دیا جو سارے مال کا نواں حصہ بنتا ہے۔ لوگ اپنا مال ان کے پاس بطور امانت رکھنے کے لیے آتے، تو وہ اس اندیشے کے تحت بطور امانت اسے لینے سے انکار کر دیتے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے اور فرماتے: "یہ امانت نہیں بلکہ مجھ پر قرض ہے۔" زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک زاہد و امانت دار شخص تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی حکومتی عہدہ یا کسی بھی شے کی ذمے داری نہیں اٹھائی تھی۔ جب ان کی وفات ہو گئی اور ان کے بیٹے نے ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کر دیا اور ان کا کچھ مال بچ بھی گیا تو ورثاء نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ باقی ماندہ کو ان کے مابین تقسیم کر دیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ کہتے ہوئے اسے تقسیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایام حج میں اعلان کرانے کے بعد ہی اسے تقسیم کریں گے۔ اگر یہ بالکل واضح ہو گیا کہ کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جس کا ان کے والد پر قرض ہو تو وہ اسے ان میں تقسیم کر دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ جب سارا قرض ادا کر چکے تو آٹھواں حصہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیویوں کو دے دیا جو ترکے میں ان کا حصہ بنتا تھا۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی اس وقت چار بیویاں تھیں۔
حوالہ
الجامع المسند الصحيح (صحيح البخاري), تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, تأليف: مصطفى الخن ومصطفى البغا ومحي الدين مستو وعلي الشربجي ومحمد لطفي, مؤسسة الرسالة, ط 14 عام 1407 - 1987
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, تأليف: محمد علي بن محمد البكري الصديقي, عناية: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة, ط 4 عام 1425
فيض الباري على صحيح البخاري, تأليف: أمالي محمد أنور شاه الكشميري الهندي, تحقيق: محمد بدر عالم الميرتهي, الناشر: دار الكتب العلمية, ط1 عام 1426
تيسير العزيز الحميد في شرح كتاب التوحيد, تأليف: سليمان بن عبدالله آل الشيخ, تحقيق: زهير شاويش, التاشر: المكتب الإسلامي, ط1 عام 1323
تعليق البغا على صحيح البخاري، دار ابن كثير ، اليمامة – بيروت، تحقيق : د. مصطفى ديب البغا، الطبعة الثالثة ، 1407 – 1987.
یہ حدیث HadeethEnc.com پر