عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنےسینے کے ساتھ سہارا دے رکھا تھا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک لیے اسے کر رہے تھے۔ آپ ﷺ مسلسل مسواک کی طرف دیکھ رہے تھے۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت: ((دخل عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق رضي الله عنهما على النبي صلى الله عليه وسلم وأنا مُسْنِدَتُه إلى صدري، ومع عبد الرحمن سِواك رَطْب يَسْتَنُّ به، فأَبَدَّه رسول الله صلى الله عليه وسلم بَصَره، فَأَخَذْتُ السِّوَاك فَقَضَمتُه، فَطَيَّبتُه، ثُمَّ دَفَعتُهُ إلى النبي صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ به فما رأيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم استَنَّ اسْتِنَانًا أَحسَنَ منه، فَما عَدَا أن فَرَغَ رسول الله صلى الله عليه وسلم : رَفَع يَدَه -أو إصبعه-، ثم قال: في الرفيق الأعلى -ثلاثا- ثمَّ قَضَى، وكَانت تقول: مَاتَ بَينَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي)).
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابى بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنےسینے کے ساتھ سہارا دے رکھا تھا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک لیے اسے کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے مسلسل مسواک کی طرف دیکھا، تو میں نے مسواک لے کر اسے دانتوں سے چبایا اور اچھی طرح سے قابل استعمال بنا کر نبی ﷺ کی طرف بڑھا دی۔ آپ ﷺ نے وہ مسواک جتنی اچھی طرح سے کی، اس طرح سے میں نے آپ ﷺ کو کبھی مسواک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی اٹھائی اور فرمایا۔ ”فی الرفیق الاعلیٰ“ (اے اللہ! مجھے رفیق اعلی میں پہنچا)۔ آپ ﷺ نے ایسا تین دفعہ کہا اور پھر وفات پا گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے مابین تھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہےکہ نبی ﷺ مسواک سے کس قدر محبت کرتےتھے۔
عبد الرحمن بن ابى بکر رضی اللہ عنہ جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ آپ ﷺ حالت نزع میں تھے۔ ان کے پاس ایک تروتازہ مسواک تھی، جسے وہ اپنے دانتوں پر رگڑ رہے تھے۔
نبی ﷺ نے جب عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس مسواک دیکھی، تو اپنی بیماری اور حالت نزع کے باوجود آپ ﷺ مسواک کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے، کیوںکہ آپ ﷺ کو یہ بہت پسند تھی۔ آپ ﷺ مسلسل اس کی طرف دیکھ رہے تھے، جیسے اسے استعمال کرنے کےخواہش مند ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھانپ کر اپنے بھائی سے مسواک لی، اپنے دانتوں سے اس کا سرا کاٹا اور صاف ستھری کر کے نبی ﷺ کو دے دیا اور آپ ﷺ نے اس سے مسواک کیا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اس سے بہتر انداز میں مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
جب آپ ﷺ (دندان مبارک) صاف کر چکے اور مسواک سے فارغ ہوگئے، تو انگلی اٹھا کر اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور اپنے رب کےجوار کو اختیار کرتے ہوئے وفات پاگئے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو آپ ﷺ کا سر مبارک ان کے سینے پرتھا اور ان کا اس بات پر فخر کرنا بجا بھی تھا۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين ، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408 هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com