سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے

عن أنس رضي الله عنه قال: «آخِرُ نَظْرة نَظَرْتُها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كَشَف السِّتارة والناسُ صُفوف خَلْف أبي بكر رضي الله عنه ، فأراد أبو بكر أنْ يَرْتَدَّ، فأشار إليهم أَنِ امكثُوا وأَلْقى السِّجْفَ، وتُوفِّي مِن آخِرِ ذلك اليوم، وذلك يومَ الإثنين».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و لم کے آخری دیدار کی سعادت اس وقت حاصل ہوئی، جب آپ نے (اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ میں پڑا ہوا) پردہ اٹھایا۔ اس وقت لوگ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ کو دیکھ کر ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے لوگوں کو اس بات کا اشارہ کرنے کے بعد کہ اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے رہو، پردہ ڈال دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کى وفات ہوگئی, اور وہ دن سوموار کا تھا"۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

انس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری بار اس وقت دیکھا، جب آپ نے اپنے کمرے اور مسجد کے بیچ پڑے ہوئے پردے کو اٹھایا اور لوگوں کو ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے پیچھے صف باندھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلنا چاہتے ہيں، اس لیے پیچھے ہٹ کر صف میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوچنے لگے، تاکہ آپ آئیں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اشارے سے حکم دیا کہ وہ اپنی اپنی جگہوں میں رہ کر نماز پوری کریں۔ پھر آپ نے پردہ گرا دیا اور اسی دن کے آخری حصے میں آپ کی وفات ہو گئی۔ اور وہ سوموار کا دن تھا۔

حوالہ

- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة: الثانية، 1406ه – 1986م. - حاشية السندي على سنن ابن ماجه، لمحمد بن عبد الهادي التتوي نور الدين السندي، الناشر: دار الجيل – بيروت. - شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، المؤلف: محمد بن علي بن آدم الإثيوبي الوَلَّوِي، الناشر: دار المعراج الدولية للنشر - دار آل بروم للنشر والتوزيع, الطبعة الأولى, 1416- 1424.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
آپ ﷺ کی وفات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com