سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم قال: "ما بَعَثَ اللهُ نبياً إلا رَعَى الغَنَمَ"، فقالَ أصحابُهُ: وأنتَ؟، قال: "نعم، كُنتُ أرعَاها على قَرَارِيطَ لأهلِ مكةَ".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں“۔ اس پر آپ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا کہ ہاں! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کے عوض چَرایا کرتا تھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

تمام انبیاء نے اپنی زندگی میں بکریاں چرائی ہیں۔ ظاہرِ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نبوت سے پہلے بکریاں چَرائی ہیں۔ اس کی حکمت کے بارے میں علماء نے فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے تاکہ اُن نبیوں کو لوگوں کی نگرانی کرنے اور ان کو نیکی کی طرف متوجہ کرنے کی مشق ہو۔ کیونکہ بکریوں کا چرواہا کبھی ان کو چراگاہ کی طرف لے جاتا ہے اور کبھی ایسے ہی چھوڑ دیتا ہے اور کبھی گھاٹ میں پانی پلانے لے جاتا ہے۔ نبی بھی اپنی امت کی رہنمائی کرتا ہے اور انہیں علم، ہدایت اور بصیرت ے عبارت خیر کی طرف متوجہ کرتا ہے اس چرواہے کی طرح جسے اچھی چراگاہ کے بارے میں علم ہوتا ہے اور اسے اس چیز کا بھی علم ہوتا ہے جس میں بکریوں کے لیے بہتری اور ان کے کھانے پینے کا سامان ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے بکریوں کو اس لیے چُنا گیا کہ بکری والے سکون، ٹھہراؤ اور اطمینان کے ساتھ متصف ہوتے ہیں برخلاف اونٹوں کے، اس لیے کہ اونٹوں والوں میں اکثر سختی اور شدت پائی جاتی ہے۔اس لیے کہ بذاتِ خود اونٹوں میں بھی سختی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بکریاں چرانے کے لیے چُنا تاکہ ان میں ان کی عادت آ جائے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کی مشق ہو۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة - الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير - دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن - الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري، للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة - بيروت. كنوز رياض الصالحين، فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا - الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
بعثت سے قبل آپ ﷺ کے حالات ز ندگی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com