سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے کہ اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: ما غِرْتُ على نساء النبي صلى الله عليه وسلم إلا على خديجة، وإني لم أُدركها، قالت: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ذبح الشاة، فيقول: «أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة»، قالت: فأغضبتُه يوما، فقلتُ: خديجة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إني قد رُزِقْتُ حُبَّها».
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ اُمّ المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے: ”اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو“۔ اُم المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں ایک دن غصہ میں آگئی اور میں نے کہا خدیجہ خدیجہ ہی ہو رہی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے دل میں ان کی محبت ڈالی جا چکی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر غیرت نہیں کھائی، سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے، حالانکہ وہ آپ ﷺ کی مجھ سے شادی کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی تھی۔ آپ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تو اسے خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بھیجتے تھے۔ ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا غصہ ہوئیں اور فرمایا کہ آپ خدیجہ کا ذکر بہت زیادہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ نے میرے دل میں ان کی محبت ڈالی ہے“۔

حوالہ

صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423 هـ. إكمال المعلم بفوائد مسلم، عياض بن موسى اليحصبي السبتي، المحقق: يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419هـ، 1998م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
آپ ﷺ کے ازواج مطہرات اور نبوی گھرانے کے حالات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com