سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو۔

أنَّ عَائِذَ بن عَمْرو رضي الله عنه دَخَل على عُبَيد الله بن زياد، فقال: أي بُنَيَّ، إِنِّي سَمِعت رَسُول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الحُطَمَةُ» فَإِيَّاك أَن تَكُون مِنهُم، فقال له: اجْلِس فَإِنَّما أَنْت مِن نُخَالَةِ أَصحَاب محمَّد صلى الله عليه وسلم فقال: وهل كَانَت لَهُم نُخَالَة؟! إِنَّمَا كَانَت النُخَالَة بَعدَهُم وَفِي غَيرِهِم.
عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا : میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ تو تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہوجاؤ۔ اس نے کہا : آپ بیٹھیے، آپ تو اصحاب محمد ﷺ کا تلچھٹ ہو، انھوں نے کہا: کیا اصحاب رسول ﷺ میں بھی تلچھٹ ہوتا ہے؟ بے شک تلچھٹ تو ان کے بعد یا ان کے علاوہ دوسروں میں ہوگا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے، اس وقت عبید اللہ عراق کا امیر تھا۔ وہ اپنے باپ کے بعد وہاں کا امیر بنا تھا۔ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو کہتے ہوئے سنا کہ بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ ”الحُطَمَة“ یعنی اونٹوں کو ہنکانے اور لانے لے جانے میں سختی کرنے والا، جو بعض کو بعض سے مڈ بھیڑ کرواتا ہے اور سختی برتتا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بُرے والی کے لیے بطور مثال بیان کیا ہے۔ اس سے مُراد بد خلق ہے، جو دوسروں پر ظلم کرتا ہے، نرمی اور رحم کا رویہ روا نہیں رکھتا۔ ”فَإِيَّاك أَن تَكُون مِنهُم“ یہ عائذ رضی اللہ عنہ کا جملہ ہے، جو انھوں نے ابنِ زیاد سے نصیحت کے طور پر کہا۔ ابنِ زیاد نے جواب میں کہا: آپ تو ان کا تلچھٹ ہو یعنی تم صاحب فضل، ذی علم اور اہلِ مرتبہ صحابہ میں سے نہیں ہو، بلکہ کم مرتبہ صحابہ میں سے ہو۔ ”النُّخَالَة“ آٹے کے بھوسے سے استعارہ ہے، جو اس کے چھلکے ہوتے ہیں، النخالة، الحقالة اور الحثالة ایک ہی معنیٰ میں آتے ہیں۔ جلیل القدر صحابی نے جواب میں کہا: ”وهل كَانَت لَهُم نُخَالَة؟ إِنَّمَا كَانَت النُخَالَة بَعدَهُم وَفِي غَيرِهِم“ یہ صحابی کا بڑا عمدہ، سلیس، فصیح اور سچا کلام ہے، جسے ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے تمام لوگوں میں چنندہ، امت کے سردار اور بعد والوں سے افضل ہیں۔ سب کے سب عادل اور اسوہ ہیں۔ ان میں تلچھٹ ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ملاوٹ تو بعد والوں کی طرف سے یا خود بعد والوں میں ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة 1428هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، أبو زكريا محيي الدين النووي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الثانية 1392هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ، 1987م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
امام کے واجبات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com