عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قُلتُ: يَا رسُولَ الله، أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِي؟ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَإِنَّهَا يَوْمَ القِيَامَةِ خِزيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَأَدَّى الَّذِي عَلَيهِ فِيهَا».
ابو ذر رضی الله عنہ سے روایت ہےکہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا:”ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ (امارت) امانت ہے، قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہوگی، سوائے اس شخص کے، جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس نے متعلقہ ذمہ داری جو اس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہیں حکومت اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے بارے میں نصحیت فرمائی۔ ایسا اس وقت ہوا جب ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ انہیں کوئی حکومتی ذمہ داری سونپیں۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم کمزور ہو“۔ اس بات میں گو کہ کچھ سختی ہے لیکن امانت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان کو اس کے بارے میں بالکل صراحت کے ساتھ بتا دیا جائے کہ وہ کیسا ہے۔ اگر وہ قوی ہے تو قوی اور اگر کمزور ہے تو کمزور۔ اس میں دلیل ہے کہ حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان قوی اور امین ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”یہ امانت ہے“۔ اگر وہ قوی اور امین ہو تو یہ صفات ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ امیر اور حاکم بننے کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اگر قوی تو ہو لیکن امین نہ ہو یا پھر امین ہو لیکن قوی نہ ہو یا پھر کمزور بھی ہو اور امین بھی نہ ہو تو ان تینوں اقسام کی کمزوریوں کے مالک شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حکمران بنے۔چنانچہ اس بنا پر ہم قوی شخص کو حکمرانی سونپتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ لوگوں کو اقتدار اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر قوت نہ ہو خاص طور پراس وقت جب دین بھی کمزور ہو تو اس صورت میں معاملات بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ حدیث حکومتی ذمہ داریوں کو لینے سے اجتناب کرنے کے بارے میں ایک بنیاد ہے خاص طور پر اس شخص کے لیے جس میں اس حکومتی ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں کمزوری پائی جائے۔ جہاں تک اُس رسوائی اور ندامت کا تعلق ہے جس کا حدیث میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قیامت کے روز رسوائی اور ندامت کے سوا کچھ نہ ہو گی“۔ تو یہ اس شخص کے حق میں ہے جو اس حکومتی ذمہ داری کا اہل نہ ہو۔ یا پھر اہل تو ہو لیکن وہ اس میں انصاف نہ کرے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالی قیامت کے دن ذلیل اور رسوا کر دے گا اور وہ اپنی کوتاہی پر نادم ہو گا۔ جب کہ وہ شخص جو حکومتی ذمہ داری کا اہل ہو اور وہ اس میں انصاف بھی کرے تو یہ وعید اُس پر صادق نہیں آئے گی۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے استثناء کرتے ہوئے فرمایا: ”ماسوا اس شخص کے جس نے اس کا اہل ہونے کی وجہ سے اسے لیا اور اس کے بارے میں اس پر جو ذمہ داری عائد ہوتی تھی اسے پورا کیا“۔ کیونکہ جو اس کا اہل ہو اس کی بہت فضیلت ہے جس کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: ”سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنے سایہ میں جگہ دے گا“ (جس میں انصاف کرنے والا حاکم بھی ہے)۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ: ”عدل کرنے والے نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے“۔ وغیرہ۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
رياض الصالحين، للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، ط2، دار إحياء التراث العربي - بيروت، 1392ه.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے ایک سرِیّہ بھیجا اور ایک انصاری شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی اطاعت کا حکم دیا۔ وہ (کسی بات پر) غصہ ہو گیا اور کہنے لگا: کیا نبی ﷺ نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (یقیناً دیا ہے)۔ اس نے کہا: تو پھر میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اس نے کہا: آگ جلاؤ۔ تو انہوں نے آگ جلائی۔ پھر اس نے کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ تو انہوں نے (داخل ہونے کا) ارادہ کیا لیکن ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تو آگ ہی سے (بچنے کے لیے) نبی ﷺ کی طرف بھاگ کر آئے تھے۔ وہ اسی کشمکش میں تھے کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی اور اس (امیر) کا غصہ بھی فرو ہو گیا۔ جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس سے نہ نکلتے؛ اطاعت صرف نیکی (کے کاموں) میں ہے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا، انصار میں سے ایک شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی اطاعت کا حکم فرمایا۔ ایسا ہوا کہ وہ امیر ان پر غصہ ہو گئے اور ان سے کہنے لگے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تو میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ لکڑیاں جمع کرو، آگ جلاؤ اور پھر اس میں داخل ہو جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی، پھر جب انہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور کہا: ہم نے تو آگ سے بچنے کے لیے نبی ﷺ کی اتباع کی تھی، تو کیا ہم اس میں داخل ہوں گے؟ وہ ابھی اسی حال میں تھے کہ آگ کا شعلہ بجھ گیا، اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ جب نبی ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ان کی اطاعت کرتے اور اس آگ میں داخل ہو جاتے جو انہوں نے جلائی تھی، تو وہ اس میں عذاب دیے جاتے اور جب تک دنیا قائم رہتی، اس سے نہ نکل پاتے۔ خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں؛ اطاعت تو صرف بھلائی کے کاموں میں واجب ہے، معصیت میں نہیں۔
فوائد
اس بات کا بیان کہ اطاعت صرف نیکی میں ہے اور معصیت میں نہیں، اگرچہ حکم دینے والا واجب الاطاعت ہی کیوں نہ ہو۔
گناہ گار موحد بندے کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے، اور اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے معاف بھی کر سکتا ہے۔
غزوے میں امیر مقرر کرنے کا جواز، اسی طرح سفر میں بھی۔
حوالہ
صحيح البخاري (5/ 161) (4340).
صحيح مسلم (3/ 1469) (1840).
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (10/ 220).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com