سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

امر بالمروف اور نہی عن المنکر سے متعلق کچھ احکام اور مسائل

2 احادیث

بنو اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔

عن حُميد بن عبد الرحمن: أنه سمع معاوية رضي الله عنه عام حَجَّ على المِنْبَر، وتناول قُصَّة من شَعْرٍ كانت في يَدِ حَرَسِيٍّ، فقال: يا أهل المدينة أين عُلَمَاؤُكُمْ؟! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عن مثل هذه، ويقول: «إنما هَلَكَت بَنُو إسرائيل حين اتَّخَذَهَا نساؤُهُم».
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے، انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حج کے سال منبر پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گھچا تھا، یہ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے بالوں کا مجموعہ تھا جو کہ ان کی کسی چوکیداری کرنے والے خادم کے ہاتھ میں تھا۔ فرمایا اے اہلِ مدینہ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ یہ انکار کے قبیل سے ہے کہ انہوں نے لوگوں کو اس بُرائی سے منع کرنے میں کوتاہی کی اور اس (ممنوع شے) کو تبدیل کرنے سے غفلت برتی۔پھر فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے بالوں کو گوند کر اس طرح کے بال بنانا شروع کردیا تو اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، وہ تمام لوگ ہلاک ہوگئے، اس لیے کہ وہ بُرائی کا اقرار کرتے تھے اور ساتھ ہی بُرائی کرنے والوں کو اپنے ساتھ ملاتے تھے۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1397هـ، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ، 1987م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418هـ، 1997م. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ. المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ فتح الباري شرح صحيح البخاري، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، رقمه وبوب أحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: 1379هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اوّابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگیں۔

عن زَيد بن أرْقَم رضي الله عنه : أنه رأى قوما يصلُّون من الضُّحى، فقال: أمَا لقد عَلِموا أن الصلاة في غير هذه السَّاعة أفضل، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال: «صلاة الأَوَّابِين حين تَرْمَضُ الفِصَال».
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: کیا انھیں معلوم نہیں کہ یہ نماز اس وقت کے علاوہ میں افضل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اوّابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدت گرمی کی وجہ سے جلنے لگیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یعنی چاشت کی نماز کا اول وقت وہ ہے ، جب سورج کافی اونچا ہو جائے اور اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرماں بردار اور اس کی طرف رجوع کرنے والے بندے چاشت کی نماز ادا کرتے ہیں۔

حوالہ

صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. المجموع شرح المهذب (مع تكملة السبكي والمطيعي) تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار الفكر. سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف : محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث الطبعة: بدون طبعة وبدون تاريخ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ _ 2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com