سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جس بندے کو اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت کے ساتھ دھوکا کر رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے“۔

عن مَعقِلِ بن يَسار المُزَنِيّ رضي الله عنه قال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللهُ رَعِيَّةً، يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ».
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جس بندے کو اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت کے ساتھ دھوکا کر رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ہر وہ شخص جسے اللہ نے لوگوں کا والی اور ذمے دار بنایا، ولایت چاہے عام ہو، جیسے امیر اور حاکم یا خاص ہو، جیسے ایک مرد یا ایک عورت پر عائد ہونے والی گھر کی ذمے داری، پھر اس نے اپنے ماتحت لوگوں کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کی، ان کو دھوکہ دیا، خیر خواہی سے کام نہیں لیا اور ان کے دینی و دنیوی حقوق کو ضائع کر دیا، وہ اس سخت سزا کا مستحق ہو گیا۔

فوائد
  1. یہ وعید حکمران وقت اور اس کے کارندوں کے ساتھ خاص نہيں ہے، بلکہ اس کے اندر ہر وہ شخص داخل ہے، جس کے ماتحت کچھ لوگ ہوں۔
  2. مسلمانوں کی کوئی بھی عوامی ذمے داری قبول کرنے والے پر ان کی خیرخواہی کرنا، امانت ادا کرنے کی کوشش کرنا اور خیانت سے خوف کھانا واجب ہے۔
  3. کوئی بھی عام یا خاص، چھوٹی یا بڑی ذمے داری قبول کرنے کی اہمیت۔
حوالہ

صحيح البخاري (9/ 64) (7150). صحيح مسلم (1/ 125) (142). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 706). فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي (5/ 488). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 543).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
شرعی سیاست

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com