سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قرآن کے بارے میں شہبات کا رد

3 احادیث

ابن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی ﷺ کوئی شے چھوڑ کر گئے؟ تو ان دونوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔

عن عبد العزيز بن رُفَيع، قال: دخلتُ أنا وشَدَّاد بن مَعْقِل، على ابن عباس رضي الله عنهما ، فقال له شَدَّاد بن مَعْقِل: أَتَرَكَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مِن شيء؟ قال: «ما تَرَكَ إلَّا ما بيْن الدَّفَّتَيْن» قال: ودَخَلْنا على محمد ابن الحَنَفِيَّة، فسألناه، فقال: «ما تَرَكَ إلَّا ما بيْن الدَّفَّتَيْن».
عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شداد بن معقل نے ان سے پوچھا: کیا نبی ﷺ کچھ چھوڑ کر گئے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔ عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

دو جلیل القدر تابعی یعنی عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے سوال کیا کہ کیا نبی ﷺ اپنے وفات کے بعد کوئی شے چھوڑ کر گئے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات کے بعد صرف اور صرف قرآن ہی کو چھوڑا ہے جو مصحف کے دونوں دفتیوں کے مابین ہے۔ پھر وہ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے اور ان سے بھی یہی سوال کیا ۔ اس حدیث سے روافض کے مذہب کا ابطال ہوتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن میں علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی نص موجود تھی لیکن صحابہ نے اسے چھپا لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ لوگوں میں سے یہ دونوں علی رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب رہے۔ اگر واقعی کوئی ایسے بات ہوتی جس کا روافض دعوی کرتے ہیں تو اس سے آگاہ ہونے کا سب سے زیادہ حق انہی کا تھا اور ان سے بہرحال یہ چھپی نہ رہ سکتی۔ بلکہ خود علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح کی بات مروی ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. - إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. - عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - فتح الباري شرح صحيح البخاري, أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي, دار المعرفة - بيروت، 1379, رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي, قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب. - الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هبيرة بن محمد بن هبيرة الذهلي الشيباني، المحقق: فؤاد عبد المنعم أحمد، الناشر: دار الوطن، سنة النشر: 1417هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قرآن کے معاملے میں جھگڑا نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تُجادِلوا في القرآن؛ فإنَّ جِدالًا فيه كُفرٌ».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے معاملے میں جھگڑے نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے“۔
اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم کے معاملے میں جھگڑنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی شخص نے کسی آیت کی تلاوت یا کلمے کو سنا جو اس کے پاس نہیں یا اس کا اسے علم نہیں تو جلدبازی کرتے ہوئے پڑھنے والے کو خطا کار گردان دے اور جو اس نے پڑھا ہے اسے غیرِقرآن سے منسوب کر دے، یا پھر وہ کسی آیت کے معنی میں جھگڑتا ہے جس کا اسے علم نہیں تو اسے گمراہ قرار دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ جھگڑا اس کے سامنے حق کے ظاہر ہونے کے باوجود اس کو حق سے پھیر دیتا ہے۔ اسی لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کا نام کفر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ صاحبِ جدال کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس سے اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے یا یہ مباح اور محمود اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب سوال کرنے والا حصولِ علم یا اظہارِ حق کے لیے سوال کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”ان سے اچھے انداز میں بحث ومباحثہ کیجیے“۔

حوالہ

-مسند أبي داود الطيالسي، المؤلف: أبو داود سليمان بن داود بن الجارود الطيالسي البصرى، المحقق: الدكتور محمد بن عبد المحسن التركي، الناشر: دار هجر – مصر، الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1999 م. -فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى. -سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. -النهاية في غريب الحديث والأثر, مجد الدين أبو السعادات المبارك بن محمد ابن الأثير , الناشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م, تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. -التيسير بشرح الجامع الصغير, زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي, مكتبة الإمام الشافعي – الرياض, الطبعة: الثالثة، 1408هـ - 1988م. -التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ, محمد بن إسماعيل بن صلاح بن محمد الحسني، الكحلاني ثم الصنعاني، المعروف بالأمير, المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم, مكتبة دار السلام، الرياض, الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م -العواصم والقواصم في الذب عن سنة أبي القاسم, محمد بن إبراهيم ابن الوزير, حققه: شعيب الأرنؤوط, مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت, الطبعة: الثالثة، 1415 هـ - 1994 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ، رہی بات دودھ کی تو لوگ اسے دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں۔

عن عقبة بن عامر، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنِّي أخاف على أُمَّتي اثنَتَيْن: القرآنَ واللَّبَن، أما اللَّبَن فيَبْتَغُون الرِّيفَ ويتَّبِعون الشَّهَوَاتِ ويَتْركون الصلوات، وأما القرآن فيتعلَّمه المنافقون فيُجادِلون به المؤمنين».
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امّت کے بارے میں دو چیزوں کا خوف ہے: قرآن اور دودھ؛ رہی بات دودھ کی تو اسے لوگ دیہات میں تلاش کرتے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہیں اور نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور جہاں تک قرآن کا تعلق ہے تو اسے منافقین سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ مومنوں سے بحث وتکرار کرتے ہیں“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ اپنی امّت کے بارے میں ان دو چیزوں کے متعلق خدشے کا اظہار کر رہے ہیں جن کا تعلق قرآن اور دودھ سے ہے، جہاں تک دودھ کی بات ہےتو بعض لوگ اسے چراگاہوں اور کھیتوں میں طلب کرتے ہیں اور اپنی خواہشات ولذات کی پیروی کرتے ہیں، اور ان شہروں سے دور رہتے ہیں جہاں پر جمعہ وجماعت قائم کی جاتی ہے، پھر نتیجتاً دودھ کی کھوج میں نماز کو ترک کر دیتے ہیں۔ رہی بات قرآن کی تو اسے منافقین سیکھتے ہیں (اخروی) فائدہ حاصل کرنے اور اس پرعمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے سیکھتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعہ مومنوں سے باطل حجّت کرسکیں اور مومنین کے پاس موجود حق کی تردید کر سکیں۔ بذاتِ خود دودھ اور قرآن خوف ونقصان کا محل نہیں ہیں، لیکن ان دونوں کے ذریعہ اس چیز کی تعبیر کی گئی ہے جو مجازاً ان دونوں سے متعلق ہیں۔ واللہ اعلم۔

حوالہ

-مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. -سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. -مختار الصحاح، لزين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن عبد القادر الحنفي الرازي، تحقيق: يوسف الشيخ محمد، نشر: المكتبة العصرية - الدار النموذجية، بيروت – صيدا، لطبعة: الخامسة، 1420هـ / 1999م. -النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير، نشر: المكتبة العلمية - بيروت، 1399هـ - 1979م، تحقيق: طاهر أحمد الزاوى - محمود محمد الطناحي. -الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني ومعه بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني, أحمد بن عبد الرحمن بن محمد البنا الساعاتي, دار إحياء التراث العربي, الطبعة: الثانية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com