سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَالنَّارُ النَّارُ».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو، نہ اس لیے کہ مجلس میں ممتاز مقام حاصل کرو۔ جس نے ایسا کیا تو (اس کے لیے) آگ ہے، آگ ہے"۔
رواه ابن ماجهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ اس بات سے منع کیا ہے کہ حصول علم کے پیچھے علما کے مقابلے میں فخر و مباہات کرنے اور یہ باور کرانے کا مقصد کارفرما ہو کہ میں بھی تمہاری طرح عالم ہوں، نادانوں اور کم عقلوں سے بحث و مباحثہ کرنے یا مجلسوں میں سرداری اور صدارت حاصل کرنے جیسے ارادے چھپے ہوئے ہوں۔ جس نے ایسا کیا وہ ریا ونمود اور حصول علم میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہے۔

فوائد
  1. جو شخص فخر ومباہات، بحث ومباحثہ یا مجلسوں کی صدارت حاصل کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے، اسے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
  2. جو شخص علم سیکھے اور سکھائے، اس کی نیت میں اخلاص کا پایا جانا بہت اہم اور ضروری ہے۔
  3. نیت ہی تمام اعمال کی بنیاد ہے اور اسی کے مطابق بدلہ ملے گا۔
حوالہ

سنن ابن ماجه (1/ 170) (254)، مرشد ذوي الحجا والحاجة (2/378)، مشارق الأنوار الوهاجة ومطالع الأسرار البهاجة في شرح سنن الإمام ابن ماجه (4/ 482).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
دل کے امراض

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com