اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کی فضیلت بتائی ہے۔ فضیلت یہ ہے کہ اس وقت کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی اور قبول کی جاتی ہے۔ اس لیے اس درمیان اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
- اس وقت دعا کرنے کی فضیلت۔
- دعا کرنے والا جب آداب دعا کا اہتمام کرے، دعا قبول ہونے کی جگہوں اور اوقات کا لحاظ کرتے ہوئے دعا کرے، اللہ کی نافرمانی سے دور رہے، شک و شبہ کی جگہوں پر قدم رکھنے سے اجتناب کرے اور اللہ سے حسن ظن رکھے، تو اس بات کی توقع ہے کہ اللہ کی اجازت سے اس کی دعا قبول ہو۔
- مناوی دعا قبول ہونے کے بارے میں کہتے ہیں : دعا قبول اس وقت ہوتی ہے، جب اس کی شرطوں، ارکان اور آداب كا کیا خیال رکھا جائے۔ اگر ان میں سے کسی چيز کا خیال نہ رکھا گیا، تو دعا قبول نہ ہونے کا ذمے دار انسان خود ہے۔
- دعا قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو انسان کو اس کی مانگی ہوئی چيز دے دی جائے یا اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دی جائے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع کر کے رکھ دیا جائے۔ ان سب باتوں کا انحصار اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت پر ہے۔
سنن الترمذي (1/ 253) (212). سنن أبي داود (1/ 392) (521). السنن الكبرى للنسائي (9/ 32) (9812). الثمر المستطاب في فقه السنة والكتاب، الألباني (1/ 200). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، لعبد الله البسام (1/ 548). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (2/ 309). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 486). سبل السلام، لمحمد الصنعاني (2/ 707).