ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ مجھے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ’’رب تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ لہذا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو، جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، تو ہو جاؤ۔‘‘
رواه أبو داود والترمذي والنسائيدرجہصحيح
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کی کوشش ہونی چاہیے کہ رات کے اس حصے میں جاگ کر اللہ کی عبادت کرے، نماز پڑھے، ذکر و اذکار میں مشغول رہے اور توبہ کرے۔
فوائد
رات کے آخری حصے میں ذکر کرنے کی ترغیب۔
ذکر، دعا اور نماز کے اوقات‘ فضل و شرف کے معاملے میں ایک دوسرے سے متفاوت ہوتے ہیں۔
میرک، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: "رب اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا ہے"۔ اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے قول: "بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے"۔ کے درمیان فرق کے بارے میں کہتے ہیں: یہاں مراد یہ بیان کرنا ہے کہ رب اپنے بندے سے سب سے قریب کب ہوتا ہے جو کہ رات کا آآخرى تہائى حصہ ہے۔ جب کہ وہاں مراد یہ بیان کرنا ہے کہ بندہ کس حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، جو کہ سجدہ کى حالت ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 537) (3579).
سنن أبي داود (2/ 454) (1277).
سنن النسائي (1/ 279) (572).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1019).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 509).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 535).
مشكاة المصابيح، للتبريزي (1/ 387).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com