سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

دعا کی اقسام

1 احادیث

نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔

عن عاصم قال: سألتُ أنساً رضي الله عنه عن القُنُوت، قال: قبل الركوع، فقلت: إن فلاناً يزعم أنك قلت بعد الركوع؟ فقال: كَذَبَ، ثم حَدَّثَنَا، عن النبي صلى الله عليه وسلم : «أنه قنت شهراً بعد الركوع، يدعو على أحياء من بني سليم»، قال: «بعث أربعين -أو سبعين يشك فيه- من القراء إلى أناس من المشركين»، فعرض لهم هؤلاء فقتلوهم، وكان بينهم وبين النبي صلى الله عليه وسلم عهد، «فما رأيته وجد على أحد ما وجد عليهم».
عاصم الاحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہیے، میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص کا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے رکوع کے بعد کہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ انھوں نے جھوٹ کہا ہے۔ پھر انھوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔ انھوں نے بیان کیا کہ:آپ ﷺ نے چالیس یا ستر، راوی کو تعداد میں شک ہے قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت مشرکین کی طرف روانہ کیا، لیکن بنو سلیم کے لوگ ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا۔ حالاں کہ نبی کریم ﷺ سے ان کا معاہدہ تھا۔ ( لیکن انھوں نے دغا دیا)۔ میں نے آپ ﷺ کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں قنوت نازلہ کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے۔ اور یہ کہ یہ رکوع سے اٹھنے کے بعد پڑھی جائے گی، کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا جب بنو سلیم نے اپنے معاہدہ کو جو ان کے اور مسلمانوں کے مابین طے پایا تھا، توڑتے ہوئے ستر یا چالیس قراء صحابہ کو شہید کردیا، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے مشرکیں کی طرف (دعوت وتبلیغ کی غرض سے) بھیجا تھا۔ آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی جس میں ان پر بددعا کرتے رہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى 1422هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي. صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. مجموع الفتاوى, تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية, المحقق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم, الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية, عام النشر: 1416هـ - 1995م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com