نہ تم اپنے خلاف بد دعا کرو اور نہ اپنے مال و اولاد پر۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری بد دعا کا وقت اللہ کی طرف سے قبولیت کا ہو اور وہ تمہاری بد دعا قبول کر لے۔
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما مرفوعاً: «لا تدعوا على أنفسكم؛ ولا تدعوا على أولادكم، ولا تدعوا على أموالكم، لا توافقوا من الله ساعة يُسأل فيها عطاءٌ فيستجيب لكم».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تم اپنے خلاف بد دعا کرو اور نہ ہی اپنے مال و اولاد پر۔ایسا نہ ہو کہ تمہاری بد دعا کا وقت اللہ کی طرف سے قبولیت کا ہو اور وہ تمہاری بد دعا قبول کر لے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
رسول اللہ ﷺ اس حدیث میں (ہمیں) اپنے آپ، اولاد اور اموال کے خلاف بدعا کرنے سے ڈریا اور اس سے منع فرما رہے ہیں کیونکہ دعاء ایک عظیم الشان عمل ہے اور اگر گھڑی قبولیت کی ہوئی تو اللہ تعالی بندوں کی دعا قبول کرلیتا ہے۔ اس طرح سے دعا مانگنے والے اور اس کی اولاد اور مال کو نقصان پہنچتا ہے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا يحي بن شرف النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى سعيد الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي.
- كنوز رياض الصالحين»، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com