سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی دعائیں

2 احادیث

نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما: عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا دخل المسجد قال: «أعوذ بالله العظيم، وبوجهه الكريم، وسلطانه القديم، من الشيطان الرَّجِيم»، قال: أَقَطُّ؟ قلت: نعم، قال: فإذا قال ذلك قال الشيطان: حُفِظَ منِّي سائر اليوم.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)۔ (عقبہ نے) کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے (حدیث مکمل کرتے ہوئے) کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ ہو گیا۔
رواه أبو داوددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب مسجد میں داخل ہوتے، تو کہتے: "میں پناہ لیتا ہوں عظیم اللہ کی۔" یعنی میں اللہ اور اس کی صفات کی پناہ لیتا ہوں۔ جود وعطا سے متصف اس کے چہرے کی" "اس کے غلبے کی" یعنی جس مخلوق پر چاہے اس پر اس کے غلبہ، قدرت اور قہر کی۔ "جو قدیم ہے"۔ یعنی ازلی و ابدی ہے۔ "دھتکارے ہوئے شیطان سے۔" یعنی جسے اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ہے۔ یعنی اے اللہ! مجھے اس کے وسوسے، برانگیختہ کرنے، سازشوں، نقصانات ، فریب کاریوں اور گمراہیوں سے محفوظ رکھ۔ کیوں کہ انسان کے گمراہ ہونے اور بھٹکنے وجہالت کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بس اتنا ہی کہا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ ہاں مگر اس حدیث کى تکمیل یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے والا شخص یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: اس داخل ہونے والے شخص نے مجھ سے اپنی ذات کو دن بھر اور رات بھر کے لیے محفوظ کر لیا۔

فوائد
  1. مسجد میں داخل ہوتے وقت اس ذکر کا اہتمام کرنے کی فضیلت۔ یہ دعا پڑھ لینے کے بعد انسان باقی دن شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
  2. اس حدیث میں شیطان سے خبردار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شیطان مسلمان کو راہ راست سے بھٹکانے کے لیے گھات لگا کر بیٹھا رہتا ہے۔
  3. انسان کو شیطان کی دسیسہ کاریوں سے تحفظ اسی قدر فراہم ہوتا ہے، جس قدر اس کے دل میں اللہ پر ایمان، اس دعا کے پڑھتے وقت حضور قلب اور اس کے بدلے میں اللہ کی جانب سے کیے گئے وعدے پر یقین ہوتا ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (1/ 349) (466). شرح سنن أبي داود، لبدر الدين العيني (2/ 374). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (2/ 627).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)

عَنْ ‌أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ عَنْ ‌أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ».
ابو حُمَید یا ابو اُسَید سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتِكَ"۔ دراصل اس کے ذریعے وہ اللہ سے اپنی رحمت کے اسباب مہیا کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اسی طرح آپ نے تعلیم دی ہے کہ مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: "اللَّهُمَّ إني أَسْأَلُك مِن فَضْلِكَ" اور اس کے ذریعے اللہ سے اس کا فضل اور روز افزوں احسان، جیسے حلال روزی وغیرہ مانگے۔

فوائد
  1. مسجد میں داخل ہوتے وقت اور مسجد سے نکلتے وقت ان دونوں دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
  2. مسجد میں داخل ہوتے وقت رحمت اور مسجد سے نکلتے وقت فضل کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ داخل ہونے والا ایسے کاموں میں مشغول ہونے جا رہا ہے، جو اسے اللہ اور اس کی جنت سے قریب کرنے والے ہیں، اس لیے رحمت کا ذکر مناسب ہوا، جب کہ مسجد سے نکلنے کے بعد انسان اللہ کا فضل، جیسے روزی وغیرہ کی تلاش میں نکل جاتا ہے، اس لیے فضل کا ذکر مناسب ہوا۔
  3. ان اذکار کو مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کا ارادہ کرتے وقت پڑھا جائے گا۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 494) (713)، الكاشف عن حقائق السُّنن (3/935)، فيض القدير (1/ 336)، ذخيرة العقبى (9/153).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com