سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہے: ”بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله“ تو (اس وقت) اس سے کہا جاتا ہے تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا اور (یہ سن کر) شیطان اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعًا: «من قال -يعني: إذا خَرج من بَيتِه-: بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله، يُقَال له: هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ، وَتَنَحَّى عَنه الشَّيطَان». زاد أبو داود: «فيقول -يعني: الشيطان- لِشَيطان آخر: كَيف لَك بِرَجلٍ قَد هُدِيَ وكُفِيَ ووُقِيَ؟».
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہے: ”بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله“ تو (اس وقت) اس سے کہا جاتا ہے: تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا اور (یہ سن کر) شیطان اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔ ابو داود کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:”اس پر ایک شیطان دوسرے سے کہتا ہے :اس آدمی پر تمہارا بس کیسے چلےگا جسے ہدایت دےدی گئی، جس کی طرف سے کفایت کر دی گئی اور جسے بچا لیا گیا؟“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نےبتایا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہتا ہے: ”باسم اللهِ، توَکَّلْتُ على اللهِ، لا حولَ ولا قوَّةَ إلا بالله“ تو ایک فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے: اے اللہ کے بندے!تجھے راہِ حق کی طرف ہدایت مل گئی، تیری پریشانی کا بار اٹھا لیا گیا اور تجھے دشمنوں سے محفوظ کر دیا گیا۔ ایسا کہنے پر اس پر متعین شیطان دور ہٹ جاتا ہے اور ایک دوسرا شیطان اس شیطان سے کہتا ہے: تم اس آدمی کو گمراہ کیسے کر سکتے ہو جسے ہدایت دے دی گئی، جس کی طرف سے اس کا بوجھ اٹھا لیا گیا اور اسے تمام شیطانوں سے بچا لیا گیا؟ چوں کہ اس نے یہ الفاظ کہہ دیے ہیں اس لیے اب تمہارا اس پر زور نہیں چلے گا۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ، 1975م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ. صحيح الترغيب والترهيب، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف، الرياض، الطبعة: الخامسة. القول المفيد على كتاب التوحيد، محمد بن صالح العثيمين، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية 1424هـ. لسان العرب، محمد بن مكرم بن منظور الأنصاري، دار صادر، بيروت، الطبعة: الثالثة 1414هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گھر میں داخل ہونے اور گھر سے نکلنے کی دعائیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com