عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: كان نبي الله صلى الله عليه وسلم إذا أمسى قال: «أمسينا وأمسى الملك لله، والحمد لله، لا إله إلا الله وحده لا شريك له» قال الراوي: أَرَاهُ قال فِيهِنَّ: «له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، ربِّ أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها، وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها، رب أعوذ بك من الكسل، وسُوءِ الكِبَرِ، رب أعوذ بك من عذاب في النار، وعذاب في القبر»، وإذا أصبح قال ذلك أيضا «أصبحنا وأصبح الملك لله».
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شام ہوتی، تو نبی ﷺ یہ دعائیہ کلمات کہتے: "أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ"
ترجمہ: ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام حاصل رہا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔
راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں آپ ﷺ ان کے ساتھ یہ کلمات بھی کہتے: "لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ربِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ "۔
ترجمہ: بادشاہی اسی کی ہے اور ہر قسم کی حمد بھی اُسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اِس رات کی بھلائی چاہتا ہوں اور اُس کی بھی جو اس کے بعد ہے۔ اور اس رات کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اُس سے بھی جو اس کے بعد ہے۔ اے رب! میں سستی سے اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے رب ! میں جہنم اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اور جب صبح کرتے، تو بھی یہی دعا پڑھتے، لیکن "أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ" فرماتے۔ترجمہ: ہم نے صبح کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام رہا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
صبح وشام کے اوقات میں نبی ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ یہ مبارک دعائیں پڑھا کرتے تھے۔
آپ ﷺ فرماتے: (أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ): یعنی ہم شام کے وقت میں داخل ہوئے اور اللہ کی بادشاہت کو دوام رہا اور وہ اسی کے لیے خاص ہے۔
(وَالْحَمْدُ لِلَّهِ) یعنی ہم شام میں داخل ہوئے اور تعریف سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے، یعنی شام کے آنے پر ہم نے جان لیا کہ بادشاہت صرف اور صرف اللہ کی ہے اور حمد کا سزاوار بھی صرف وہی ہے۔
(وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) یعنی الوہیت میں وہ یکتا ہے۔
(رب إني أسألك من خير هذه الليلة) یعنی میں تجھ سے اس رات کی ذات کی بھلائی طلب کرتا ہوں۔
(وخير ما فيها) یعنی ہر اس شے کی بھلائی مانگتا ہوں، جو اس میں وجود میں آتی اور وقوع پذیر ہوتی ہے اور اس میں ٹھہرتی ہے۔
(وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها) یعنی راتوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور ان میں دین و دنیا کو لاحق ہونے والے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
(اللهم إني أعوذ بك من الكَسَل) یعنی استطاعت کے ہوتے ہوئے بھی نیکیوں میں سستی سے پناہ چاہتا ہوں۔ ایسا تب ہوتا ہے، جب استطاعت کے با وجود نفس نیکی پر آمادہ نہ ہو۔
(وسوء الكِبَر) یعنی بڑھاپے اور سٹھیا جانے سے پناہ مانگتا ہوں۔ یعنی کبر سنی سے جس کی وجہ سے بعض قوائے جسمانی کام چھوڑ دیتے ہیں اور کمزور پڑ جاتے ہیں اور اس سے انسان عمر کے گھٹیا ترین دور میں پہنچ جاتا ہے: کیوںکہ اس عمر میں مقصد حیات یعنی علم وعمل دونوں چھوٹ جاتے ہیں۔ بڑھاپے کی برائی سے مراد وہ اشیا ہیں جو کبر سنی سے پیدا ہوتی ہیں، جیسے عقل و دماغ کا خراب ہوجانا اور خبط میں مبتلا ہونا، نیک اعمال نہ کر سکنا اور اس طرح کی کسی اور ابتر حالت کا شکار ہونا۔
ایک روایت میں ”الکبر“ باء پر سکون کے ساتھ یہ لفظ آیا ہے۔ اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے: نعمت کے حصول پر سرکش ہو جانا اور لوگوں پر بڑائی جتانا۔
(وعذاب القبر) یعنی خود قبر کے عذاب سے یا پھر جن باتوں کی وجہ سے یہ ہوتا ہے، ان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
(وإذا أصبح) یعنی آپ ﷺ جب صبح کرتے، تو اسی طرح کہتے یعنی وہی کچھ کہتے، جو شام کو کہتے تھے، لیکن ”أمسينا و أمسى الملك لله“ کی بجائے ”أصبحنا و أصبح الملك لله“ کہتے اور ”الليلة“ کو ”اليوم“ سے بدل دیتے اور فرماتے: اللهم إني أسالك من خير هذا اليوم۔ اور اس کے بعد دن کے ضمائر کو ذکر کرتے۔
حوالہ
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين للنووي .تحقيق ماهر الفحل .ط الأولى 1428هـ، دار ابن كثير، دمشق - بيروت.
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك، تحقيق: عبد اللعزيز آل حمد، دار العاصمة الرياض، ط: الاولى، 1423هـ.
نزهة المتقين، لمجموعة من المؤلفين، مؤسسة الرسالة، ط: الرابعة عشر، 1407هـ.
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي، دار ابن الجوزي، السعودية، ط: الثالثة، 1418هـ.
كنوز رياض الصالحين، لحمد ناصر العمار.دار كنوز إشبيليا، الرياض ط: 1430هـ.
العلم الهيب في شرح الكلم الطيب، بدر الدين العيني، تحقيق خالد المصري، مكتبة الرشد، الرياض، الطبعة الثانية 1421هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: «اللهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: «بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» قَالَ: وَمَرَّةً أُخْرَى: «وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب صبح ہوتی تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ بِك أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِك نَحْيَا، وَبِك نَمُوتُ، وَإِلَيْك النُّشُورُ“ (اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیری حفاظت میں ہی شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے)۔ اورجب شام ہوتی تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے: ”بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ“ (اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیری حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔ کبھی کبھی آپ (وَإِلَيْكَ النُّشُورُ) کی جگہ پر (وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ) بھی کہتے تھے۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجهدرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے جب صبح آتی، یعنی طلوع فجر کے ساتھ دن کا پہلا حصہ نمودار ہوتا، تو یہ دعا پڑھتے :
"اللهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ۔" اے اللہ! ہم نے تیری حفاظت میں، تیری نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہوئے، تیرے ذکر میں مشغول ہوکر، تیرے نام کے ساتھ مدد طلب کرتے ہوئے، تیری توفیق کے سائے میں اور تیری دی ہوئی قوت سے رواں دواں ہوکر صبح کی۔ (وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ) یعنی مذکورہ دعاؤں کو شام میں ادا کرے سو کہے: تیرے ہی زندگی دینے والے نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے موت دینے والے نام پر ہم مرتے ہیں۔ ہمیں تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ اس دعا میں آئے ہوئے لفظ "النُّشُورُ" کے معنی ہیں، موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا اور جمع ہونے کے بعد الگ الگ ہونا۔ ہمارا حال تمام اوقات میں اسی روش پر قائم ہے۔ میں نہ اس سے الگ ہوں اور نہ جدا۔
اسی طرح جب آپ کے سامنے شام آتی، جو عصر کے بعد شروع ہوتی ہے، تو فرماتے : "اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وبكَ أصبحنا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ المَصِيْر۔" یعنی اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس دعا میں آئے ہوئے لفظ "المَصِيْر" کے معنی ہیں، دنیا میں لوٹنے کی جگہ اور آخرت کا انجام کار۔ پس تو ہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور تو ہی موت دیتا ہے۔
فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صبح و شام اس دعا کو پڑھنا مستحب ہے۔
- بندہ اپنے تمام احوال واوقات میں اللہ کا محتاج ہے۔
- ان اذکار کو پڑھنے کا افضل وقت دن کے پہلے حصے میں فجر طلوع ہونے سے سورج طلوع ہونے تک ہے اور دن کے آخری حصے میں عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے تک ہے۔ اگر کوئی بعد میں بھی پڑھتا ہے، یعنی صبح سورج بلند ہونے کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے۔ ظہر کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے اور مغرب کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے۔
- حدیث کے الفاظ "وإليك النُّشور" کو صبح کے وقت سے بڑی مناسبت ہے۔ یہ الفاظ انسان کو قیامت کے دن کے اس منظر کی یاد دلاتے ہيں، جب موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ ایک نئی زندگی ہوگی۔ ایک نیا دن ہوگا، جس میں روحوں کو جسموں میں لوٹایا جائے گا۔ لوگ ہر طرف بکھرے ہوئے ہوں گے۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی یہ نئی صبح بھی اس لیے سامنے آ رہی ہے تاکہ ابن آدم پر گواہ رہے اور اس کے اوقات و لمحات ہمارے اعمال کے خزانے بنیں۔
- اسی طرح دعا کے الفاظ "وإليك المصير" کی بھی شام کے وقت سے بڑی مناسبت ہے۔ شام کے وقت لوگ اپنے کاموں، کاروباروں اور زندگی کی دوڑ دھوپ سے واپس ہوتے ہيں۔ اپنے اپنے گھر کا رخ کرتے ہیں۔ الگ الگ جگہوں سے لوٹنے کے بعد آرام کرتے ہیں۔ اس طرح یہ الفاظ اللہ تبارک و تعالی کی طرف لوٹنے کی یاد دلاتے ہيں۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 404) (5068).
سنن الترمذي (5/ 398) (3391).
السنن الكبرى للنسائي (9/ 209) (10323).
سنن ابن ماجه (5/ 35) (3868).
مسند أحمد (14/ 290) (8649).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 576).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 458).
فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 503).
سبل السلام بشرح بلوغ المرام، لمحمد الصنعاني (2/ 714).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» قَالَ: «وَمَنْ قَالَهَا مِنَ النَّهَارِ مُوقِنًا بِهَا، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُمْسِيَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، وَمَنْ قَالَهَا مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ مُوقِنٌ بِهَا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ».
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا : "سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو : اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیرے حضور تیری جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں۔ ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہذا میرى مغرفت فرما، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : ”جس شخص نے کامل یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کی موت ہوگئی، وہ جنتی ہے۔ اسی طرح جس نے رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ اسے پڑھا اور صبح ہونے سے قبل ہی فوت ہو گیا، تو وہ بھی جنتی ہے۔“
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ استغفار کے کچھ کلمات ہیں، جن میں سب سے افضل اور عظیم ترین کلمات یہ ہیں : "اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیرے حضور تیری جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں۔ ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہذا میرى مغفرت فرما، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔" ان کلمات میں بندہ اللہ کی وحدانیت اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ اس کا خالق اور معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ وہ حتی المقدور اللہ سے کیے ہوئے ایمان اور اطاعت گزاری کے وعدے پر قائم ہے۔ کیوں کہ بندہ جتنی بھی عبادت کر لے، اللہ تعالی کے تمام اوامر کو انجام نہيں دے سکتا اور اس کی نعمتوں کا کما حقہ شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں پناہ لیتا ہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے، کیوں کہ بندے کے کیے ہوئے برے کاموں سے پناہ وہی دیتا ہے۔ وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا بھی اقرار و اعتراف کرتا ہے اور اپنے گناہوں اور معصیتوں کا بھی اقرار و اعتراف کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے، اسے اپنے عفو و درگزر، فضل و کرم اور رحمت کی بنا پر اس کے گناہوں کے برے نتائج سے بچائے۔ کیوں کہ گناہوں کو بخشنے کا کام اللہ عز و جل کے علاوہ کوئی نہيں کر سکتا۔ پھر آپ نے بتایا کہ یہ صبح و شام کے اذکار میں سے ہے۔ جس نے اسے یقین کے ساتھ، معانی کو سمجھتے ہوئے اور ان پر ایمان لاتے ہوئے دن کے آغاز میں یعنی طلوع آفتاب سے زوال آفتاب کے درمیان کہا اور پھر مر گیا، تو جنت میں داخل ہوگا۔ اسی طرح جس نے اسے رات میں یعنی سورج غروب ہونے کے وقت سے فجر طلوع ہونے کے وقت کے درمیان کہا اور صبح ہونے سے پہلے مر گیا، وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔
فوائد
- استغفار کے کلمات الگ الگ ہیں۔ کچھ کلمات دوسرے کلمات سے افضل ۔ہیں۔
- بندے کو چاہیے کہ اہتمام کے ساتھ اللہ سے یہ دعا کرے، کیوں کہ یہ سید الاستغفار ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 67) (6306).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 562).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 435).
فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 486).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ جُوَيْرِيَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ، وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى، وَهِيَ جَالِسَةٌ، فَقَالَ: «مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ».
جويریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا اور وہ کلمات یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“ اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد اور اس کی رضا کے بقدر نیز اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ صبح کی نماز پڑھنے کے لیے ان کے پاس سے باہر نکلے اور چاشت کے وقت واپس آئے تو دیکھا کہ وہ اللہ تعالی کا ذکر ہی کر رہی ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ آپ ﷺ نے ان کے پاس سے چلے جانےکے بعد چار کلمات پڑھے ہیں اور اگر ان کا مقابلہ ان سب کلمات سے کیا جائے جو انہوں نے صبح سے پڑھی ہے تو وہ اجر کے اعتبار سے ان کے برابر ہو جائیں یا ان سے بھی زیادہ وزنی ہو جائیں۔ پھر نبی ﷺ نے ان کلمات کی وضاحت فرمائی کہ وہ یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“۔
یعنی اتنی زیادہ تسبیح جو اس کی مخلوق کے بقدر ہو جس کی تعداد کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اتنی عظیم تسبیح جو اللہ کو راضی کردے اور اتنی بھاری تسبیح جو عرش کے وزن کے برابر ہو اگر عرش کوئی محسوس ہونے والی شے ہوتا اور ایسی تسبیح جو ہمیشہ جاری رہے اور جس میں کبھی انتقطاع نہ آئے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2090) (2726).
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 536).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 405).
فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 471).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَن عبدِ اللهِ بن خُبَيب رضي الله عنه أنه قال: خَرَجْنَا فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ، نَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ يُصَلِّي لَنَا، قَالَ: فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ: «قُلْ»، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: «قُلْ»، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، قَالَ: «قُلْ»، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «{قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَتُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ».
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ہم ایک بارش اور سخت تاریکى والی رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھانے کے لیے ڈھونڈنے نکلے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جب آپ کو پایا تو آپ نے کہا : "تم کہو۔" میں نے کچھ نہيں کہا، تو آپ نے دوبارہ کہا : "تم کہو۔" میں نے پھر بھی کچھ نہيں کہا تو آپ نے تیسری بار کہا : "تم کہو۔" اس بار میں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں؟ آپ نے جواب دیا : "تم صبح شام تین بار (قل ھو اللہ احد)، (قل اعوذ برب الفلق) اور (قل اعوذ برب الناس) کہہ لیا کرو۔ یہ تین سورتیں تمھارے لیے ہر چيز سے کافی ہوں گی۔"
رواه أبو داود والترمذي والنسائيدرجہصحيح
تشریح
بزرگ صحابی عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ وہ شدید بارش والی اور تاریک ترین رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو ڈھونڈنے نکلے تاکہ آپ لوگوں کو نماز پرھا دیں، تو انہوں نے آپ کو پالیا، تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم پڑھو۔ لیکن انھوں نے کچھ نہيں پڑھا۔ تو آپ نے دوبارہ پڑھنے کے لئے کہا۔ اب کى بار عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : {قل ھواللہ احد}، {قل اعوذ برب الفلق} اور {قل اعوذ برب الناس}، ان تینوں سورتوں کو صبح وشام تین تین مرتبہ پڑھ لیا کرو۔ یہ سورتیں ہر شر سے تمھاری حفاظت کریں گی اور ہر برائی سے تم کو بچائيں گی۔
فوائد
- صبح وشام سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھنا مستحب ہے۔ یہ سورتیں انسان کو ہر شر سے محفوظ رکھتی ہیں۔
- سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھنے کی فضیلت۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 415) (5082).
سنن الترمذي (5/ 535) (3575).
سنن النسائي (8/ 250) (5428).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، (2/ 996).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 307).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 543).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ ابْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ، حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ»، قَالَ: فَأَصَابَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ الْفَالِجُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي سَمِعَ مِنْهُ الْحَدِيثَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى عُثْمَانَ، وَلَا كَذَبَ عُثْمَانُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّ الْيَوْمَ الَّذِي أَصَابَنِي فِيهِ مَا أَصَابَنِي غَضِبْتُ فَنَسِيتُ أَنْ أَقُولَهَا.
ابان بن عثمان سے روایت ہے، کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "جس نے تین بار یہ دعا پڑھی : " بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" (اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہ خوب سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔) اس پر صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہيں آئے گی۔ اور جس نے اسے صبح کے وقت تین بار پڑھ لیا، اس پر شام ہونے تک اچانک کوئی مصیبت نہيں آئے گی۔" راوی کا کہنا ہے کہ بعد میں ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہو گیا، تو ان کی طرف ان سے یہ حدیث سننے والا شخص دیکھنے لگا۔ چنانچہ ابان نے ان سے پوچھا : بات کیا ہے کہ تم میری طرف دیکھے جا رہے ہو؟ اللہ کی قسم نہ میں نے عثمان کی جانب منسوب کر کے جھوٹی بات کہی ہے اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کر کے جھوٹی بات کہی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی، اس دن میں غصے کا شکار ہوکر اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
جس نے ہر دن صبح فجر طلوع ہونے کے بعد اور ہر دن شام کو سورج ڈوبنے سے پہلے تین بار یہ دعا پڑھی : "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ"۔ میں اس اللہ کی مدد لیتا اور ہر اذیت ناک چیز سے اس کی حفاظت میں جاتا ہوں، جس کا نام لے لینے کے بعد کوئی بڑی سے بڑی چيز، زمین سے نکلنے والی بلا ہو کہ آسمان سے اترنے والی مصیبت، نقصان نہیں پہنچاتی۔ وہ ہماری باتوں کو سننے والا اور ہمارے حالات کی خبر رکھنے والا ہے۔
شام کے وقت پڑھنے کی صورت میں اسے صبح تک کوئی چیز اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی اور صبح کے وقت پڑھنے کی صورت میں کوئی چیز شام تک اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی۔
چنانچہ راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہو گیا۔ فالج ایک بیماری ہے، جس میں بدن کا ایک جانب ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ لہذا ان سے حدیث سننے والا شخص تعجب سے ان کی جانب دیکھنے لگا، تو انھوں نے اس شخص سے کہا : بات کیا ہے کہ تم میری جانب دیکھے جا رہے ہو؟ اللہ کی قسم! نہ میں نے عثمان کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے اور نہ عثمان نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے۔ دراصل جس دن مجھ پر فالج کا حملہ ہوا، اس دن میں یہ دعا پڑھ نہيں سکا تھا۔ میں اس دن غصے کا شکار ہو گیا تھا اور مذکورہ دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
فوائد
- صبح و شام اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے۔ اسے پڑھ لینے کے بعد انسان کسی بلا و مصیبت کے ناگہانی حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
- عہد اول کے سلف کا اللہ پر پختہ یقین اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی باتوں کی تصدیق۔
- صبح وشام ذکر کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان کی غفلت ختم ہو جاتی ہے اور ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔
- ذکر کا اثر اتنا ہی دکھتا ہے، جتنا ذکر کرنے والے کے اندر اللہ پر ایمان، خشوع، حضور قلب اور اخلاص و یقین ہو۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 419) (5088).
سنن الترمذي (5/ 396) (3388).
السنن الكبرى للنسائي (9/ 11) (9759).
سنن ابن ماجه (5/ 35) (3869).
مسند أحمد (1/ 498) (446).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 528).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 997).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 314).
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للمباركفوري (8/ 130).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للقاري (4/ 1659).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي مسعود رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ».
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں، تو اللہ اسے برائی اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ کچھ علماء اس حدیث کا مطلب یہ بتاتے ہيں یہ دونوں آیتیں اس کے لیے تہجد کی نماز کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ جب کہ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہيں کہ یہ دونوں آیتیں دیگر اذکار کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہیں کہ رات کی نماز میں کم سے کم ان دو آیتوں کو پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ اس کے کچھ اور بھی مطالب بیان کیے گئے ہيں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اوپر کہی گئی ساری باتیں صحیح ہوں حدیث کے الفاظ ان سارى باتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں۔
فوائد
- سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت۔ یہ آخری آیتیں اس طرح ہیں : {آمَنَ ٱلرَّسُولُ..} (رسول ایمان ﻻیا...) سورت کے اخیر تک۔
- سورہ بقرہ کی آخری آیتوں کو رات میں پڑھنے سے انسان برائی اور شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
- رات سورج ڈوبنے کے بعد سے شروع ہوتی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (6/ 188) (5008-5009).
صحيح مسلم (1/ 554) (807).
فتح الباري بشرح صحيح البخاري، لابن حجر (9/ 56).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 240).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص593).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لملا علي القاري (4/ 1465).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 757).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com