سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خوش بو کو ٹھکراتے نہیں تھے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خوش بو کو ٹھکراتے نہیں تھے۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت تھی کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے۔ کوئی خوش بو ہدیہ کرے، تو قبول کر لیا کرتے تھے۔ کیوں کہ ایک تو اسے ساتھ رکھنا آسان ہوتا ہے اور دوسرا اس کی بو بھی اچھی ہوتی ہے۔

فوائد
  1. خوش بو کا ہدیہ قبول کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اسے ساتھ رکھنا مشکل نہیں ہے اور اسے قبول کرنے سے کسی کے احسان تلے دبنا نہيں پڑتا۔
  2. یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حسن اخلاق کا مظاہرہ ہو رہا ہے کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے اور ہدیہ کرنے والے کا ہدیہ قبول کر لیتے تھے۔
  3. خوش بو استعمال کرنے کی ترغیب۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 157) (2582). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 560). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة قاسم (4/ 9). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن وغيره (2/ 1213).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ملاقات کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com