سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

كوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ بیٹھ جائے، البتہ (آنے والے کو مجلس میں) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يُقِيمُ الرجلُ الرجلَ من مَجْلِسِهِ، ثم يجلس فيه، ولكن تَفَسَّحُوا، وتَوَسَّعُوا».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”كوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ بیٹھ جائے، البتہ (آنے والے کو مجلس میں) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں آدابِ مجالس میں سے دو آداب کا ذکر ہے: اول: کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دے جو اس سے پہلے وہاں بیٹھا ہو اور پھر اس کی جگہ بیٹھ جائے۔ دوم: حاضرین کے لیے واجب ہے کہ وہ نو وارد کے لیے کچھ کشادگی پیدا کردیا کریں تا کہ اپنے مابین اس کے لیے جگہ بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّـهُ لَكُمْ﴾ ”اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو اللہ تمہیں کشادگی دے گا“۔

حوالہ

تسهيل الالمام، للشيخ الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى 1427هـ - 2006 م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1، 1428هـ. توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ملاقات کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com