سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سب سے اچھی مجلس وہ ہے جو سب سے زیادہ کشادہ ہو۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، يَقُولُ:«خير المجالس أوسعها».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ”سب سے اچھی مجلس وہ ہے جو سب سے زیادہ کشادہ ہو“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

یہ حدیث، نشست گاہوں میں کشادگی و کشائش پیدا کرنےکی فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ کشادہ مجالس خیر کی مجالس میں شمار ہوتی ہیں اس لیے کہ یہ کشادہ ہوں تو بہت سے افراد کی نشستوں و بیٹھکوں کے قابل ہوں گی اور اس میں دلوں کی وسعتیں بھی کھل جاتی ہیں اور یہ بات مقتضائے حال کے مطابق ہوگی کیونکہ کبھی کچھ لوگوں کے گھروں کے کمرے تنگ دامنی کا شکوہ کرتے ہیں لیکن اگر اس میں کشادگی کا امکان ہو تو وہ تنگ کمرے بھی اپنی سابقہ حالت سے زیادہ عمدہ مجالس بن جاتی ہیں۔

حوالہ

- مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. - تطريز رياض الصالحين, لفيصل بن عبد العزيز النجدي, المحقق: د. عبد العزيز بن عبد الله آل حمد, دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002م. - شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن محمد البكري، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، الناشر: دار المعرفة, بيروت – لبنان, الطبعة: الرابعة، 1425هـ - 2004م. - مشكاة المصابيح، المؤلف: محمد بن عبد الله الخطيب العمري، التبريزي، المحقق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1985م. - رياض الصالحين، لأبي زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تعليق وتحقيق: الدكتور ماهر ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ملاقات کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com