سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان ایسی شے کے (خواب یا بیداری میں) دیکھنے کا دعوی کرے، جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : «أَفْرَى الفِرَى أن يُرِيَ الرجل عينيه ما لم تَرَيَا».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان ایسی شے کے (خواب یا بیداری میں) دیکھنے کا دعوی کرے، جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ انسان یہ دعوی کرے کہ اس نے کسی شے کو خواب میں یا حالت بیداری میں دیکھا ہے، جب کہ وہ اپنے اس دعوی میں جھوٹا ہو، کیوںکہ اس نے کوئی شے دیکھی ہی نہیں۔ نیند کی حالت میں دیکھنے سے متعلق جھوٹ حالت بیداری میں دیکھنے سے متعلق جھوٹ سے زیادہ بڑا ہے۔ کیوںکہ انسان خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے، وہ دراصل فرشتہ کے واسطے سے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ اس حالت میں جھوٹ بولنا درحقیقت اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ رہے پراگندہ خواب تو یہ شیطان اور انسان کے اپنے نفس کی جانب سے ہوتے ہیں۔ پس خواب کی یہ تین قسمیں ہیں۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى، 1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، دار طوق النجاة. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
خواب کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com