سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”اچھا خواب اللہ كى جانب سے ہے اور برا خواب شيطان كى جانب سے۔ چنانچہ جب تم ميں سے كوئى شخص برا خواب ديكھے، تو اپنى بائيں جانب تين بار تھو كے اور شيطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ ایسا کرنے پر یہ خواب اسے كوئى ضرر نہيں دے گا۔“

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلُمًا يَخَافُهُ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لاَ تَضُرُّهُ».
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اچھا خواب اللہ كى جانب سے ہے اور برا خواب شيطان كى جانب سے۔ چنانچہ جب تم ميں سے كوئى شخص برا خواب ديكھے، تو اپنى بائيں جانب تين بار تھو كے اور شيطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ ایسا کرنے پر یہ خواب اسے كوئى ضرر نہيں دے گا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اچھا اور خوشی دینے والا خواب اللہ کی جانب سے ہے۔ جب کہ ناپسندیدہ اور رنجیدہ کرنے والا خواب شیطان کی جانب سے ہے۔ لہذا جو شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے، وہ بائيں جانب تھتکارے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ کیوں کہ اللہ نے مذکورہ عمل کو برے خواب کے نتیجے میں سامنے آنے والی ناپسندیدہ بات سے سلامتی کا سبب قرار دیا ہے۔

فوائد
  1. "الرؤيا" اور "الحُلُم" سے مراد وہ چیزیں ہیں، جنھیں انسان سونے کی حالت میں دیکھتا ہے۔ لیکن پہلے لفظ کا استعمال عام طور پر اچھی چیزوں کے لیے اور دوسرے لفظ کا استعمال عام طور پر بری چیزوں کے لیے ہوتا ہے۔ ویسے دونوں الفاظ کا استعمال ایک دوسرے کی جگہ پر بھی ہوتا ہے۔
  2. خواب کی قسمیں: 1- اچھا خواب۔ یہ خواب برحق ہے اور اللہ کی جانب سے ملنے والی بشارت ہوتی ہے، جو انسان دیکھتا ہے یا اسے دکھائی جاتی ہے۔ 2- منتشر خیالات۔ یعنی ایسی باتیں جو انسان بیداری کی حالت میں سوچتا رہتا ہے۔ 3- شیطان کی جانب سے انسان کو غم زدہ کرنے یا خوف میں ڈالنے کی کوشش۔
  3. یہاں اچھے خواب کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا ہے، اس سے تین باتیں نکل کر سامنے آتی ہیں: اچھا خواب دیکھنے کے بعد اللہ کی تعریف کی جائے، اس سے خوش ہوا جائے اور اسے بتایا جائے۔ لیکن بتایا اسی کو جائے، جس سے محبت ہو۔ اسے نہيں جس سے نفرت ہو۔
  4. اسی طرح یہاں برے خواب کے بارے میں جو کچھ بتایا گیا ہے، اس سے پانچ باتیں نکل کر آتی ہیں: اس کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگی جائے، شیطان کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگی جائے، نیند سے اٹھنے کے بعد تین بار بائيں جانب تھتکارا جائے، اس کا ذکر کسی کے سامنے نہ کیا جائے اور جب دوبارہ سونے کا ارادہ ہو تو پہلو بدل کر سویا جائے۔ اتنا کر لینے کے بعد اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 125) (3292). صحيح مسلم (4/ 1771) (2261). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (11/ 190). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 125). بهجة قلوب الأبرار، لعبد الرحمن آل سعدي (ص149). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 170). منار القاري، لحمزة محمد قاسم (1/ 44). المنهاج شرح صحيح مسلم، للنووي (15/ 18).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
خواب کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com