سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات کو کہیں ٹھہرتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح صادق سے کچھ دیر پہلے ٹھہرتے تو اپنا (داہنا) بازو کھڑا کرلیتے اور اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔

عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان في سفر، فعَرَّس بليل اضطجع على يمينه، وإذا عَرَّس قُبَيْل الصُّبْح نصَب ذراعه، ووضَع رَأْسه على كَفِّه.
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات کو کہیں ٹھہرتے تو دائیں کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح صادق سے کچھ دیر پہلے ٹھہرتے تو اپنا (داہنا) بازو کھڑا کرلیتے اور اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔'
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپ ﷺ رات کے ابتدائی حصے میں آرام فرمانے کے لیے کہیں ٹھہرتے تو دائیں پہلو پر زمین پر لیٹا کرتے تھے اور جب طلوع فجر کے قریب ٹھہرتے تو اپنے ہاتھ کو کھڑا کرکے اس پر ٹیک لگا کر (سویا کرتے تھے)۔ رات کے ابتدائی حصے میں داہنی کروٹ اس لیے سویا کرتے تھے تاکہ نفس کو نیند کا پورا حصہ دیں۔ البتہ جب فجر کا وقت قریب ہوتا تو اپنے ہاتھ کو کھڑا کرکے اس پر سویا کرتے تھے تاکہ اتنی گہری نیند نہ سو جائیں کہ نماز فجر ہی فوت ہوجائے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - مرقاة المفاتيح :علي بن سلطان محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري -دار الفكر، بيروت – لبنان الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
سفر کے آداب اور احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com