عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «السفر قطعة من العذاب، يمنع أحدكم طعامه وشرابه ونومه، فإذا قضى أحدكم نَهْمَتَهُ من سفره، فليُعَجِّلْ إلى أهله».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز ) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی سفر سے اپنی غرض پوری کرچکے تو فوراً اپنے گھر والوں کے پاس واپس آجائے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبیﷺ اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، یعنی یہ عذاب کا ایک حصہ ہے۔ عذاب سے مراد یہاں وہ تکلیف ہے جو مشقت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیوں کہ سواری اور چلنے پھرنے میں بندہ اپنی عمومی روٹین کو چھوڑ دیتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ:”آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز ) سے روک دیتا ہے“ یعنی یہ اشیاء اسے بطریق احسن اور اس طرح اسے نہیں ملتی جس میں اسے لذت حاصل ہو کیوں کہ سفر میں دشواری و تکان لاحق ہوتی ہے اور گرمی و سردی، خوف اور گھر والوں اور ساتھیوں کی جدائی جھیلنی پڑتی ہے اور دشواری کی حالت میں زندگی گزارنا پڑتی ہے کیوں کہ مسافر کا دل اپنے سفر میں مشغول ہوتا ہے۔ چنانچہ عام دنوں میں جس طرح سے وہ کھاتا پیتا ہے دوران سفر وہ ویسے نہیں کھاتا پیتا۔ یہی حال اس کی نیند کا ہوتا ہے۔ جب سفر میں ان سب کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر بار اور اپنے علاقے کی طرف لوٹ آئے تاکہ وہ اپنے اہل و عیال کی دیکھ بھال اور تادیب کر سکے۔
حوالہ
1- فتح الباري لابن حجر (623/3).
2- شرح صحيح مسلم(70/13).
3-كنوز رياض الصالحين(580/12).
4-شرح رياض الصالحين لابن عثيمين(621/4).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com