عن عائشة رضي الله عنها قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تمام حالات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے ذکر کے بہت زیادہ حریص تھے اور آپ ہر وقت، ہر جگہ اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
فوائد
- اللہ کے ذکر کے لیے حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہونا شرط نہيں ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مداومت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام حالات میں زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنا چاہیے۔ البتہ وہ حالات اس سے مستثنی ہيں، جن میں ذکر کرنا منع ہے۔ جیسے قضائے حاجت۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 282) (373). صحيح البخاري (1/ 68)، (1/ 129). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، للبسام (1/ 315). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 273). مجموع فتاوى ومقالات، لابن باز (26/ 17).