سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔“

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ»
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔“
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ نے خبر دی کہ جو شخص لوگوں کے اس احسان اور بھلائی پر ان کا شکر ادا نہیں کرتا جو انہوں نے اس کے ساتھ کیا، وہ عموماً اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ یہ اس لیے ہے کہ ان دونوں باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے، کیونکہ جس کی طبیعت اور عادت ہی لوگوں کی نعمت کی ناشکری ہو، اس کی عادت اللہ کی نعمت کی ناشکری اور اس پر شکر ادا کرنے میں کوتاہی کرنا بھی بن جائے گی۔

فوائد
  1. لوگوں کے احسان کا شکر ادا کرنے کی اہمیت۔
  2. حقیقت میں نعمت عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، مخلوق تو محض اسباب ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے مسخر فرما دیتا ہے، اسی لیے لوگوں کا شکر ادا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا شکر ادا کرنا ہے۔
  3. لوگوں کے احسان پر ان کا شکر ادا کرنا کمالِ خُلق کی دلیل ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 188) (4811). سنن الترمذي (3/ 403) (1954). مسند أحمد (13/ 322) (7939). شرح سنن أبي داود لابن رسلان (18/ 490). شرح سنن أبي داود للعباد (547/ 13).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com