”بے شک اللہ تعالی اس بندے سے محبت رکھتا ہے، جو متقی (پرہیزگار)، مخلوق سے بے نیاز اور پوشیدہ حال ہو“۔
عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ».
سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”بے شک اللہ تعالی اس بندے سے محبت رکھتا ہے، جو متقی (پرہیزگار)، مخلوق سے بے نیاز اور پوشیدہ حال ہو“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ اپنے کچھ بندوں سے محبت رکھتا ہے،
جن میں سے پہلا بندہ متقی یعنی اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے والا اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچنے والا شخص ہے۔
اللہ بے نیازی کی شان والے بندے سے بھی محبت رکھتا ہے، جس کی نیازمندیوں کا دائرہ اللہ کی ذات تک محدود ہو۔ وہ دوسرے کسی پر دھیان نہ دیتا ہو۔
وہ اپنے ایسے پوشیدہ حال بندے سے بھی محبت رکھتا ہے، جومتواضع، اپنے رب کی عبادت کرتا ہو، اپنی دنیا و آخرت کے فائدے کی چیزوں میں مشغول رہتا ہو اور اس بات پر کوئی توجہ نہ دیتا ہو کہ اسے کوئی جانے یا اس کی کوئی تعریف کرے۔
فوائد
بعض ایسے اوصاف کا بیان، جن سے اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ یہ اوصاف ہيں، تقوی، تواضع اور اللہ کی دی ہوئی چیزوں پر خوش رہنا۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2277) (2965).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 651).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 509).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 509).
شرح النووي على مسلم (18/ 100).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com