سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ».
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا : ”کسی بھی اچھے کام کو ہر گز حقیر مت جانو، خواہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچھا کام کرنے کی ترغیب دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ انسان کسی اچھے کام کو حقیر نہ جانے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی ایک مثال ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس کی حرص ہونی چاہیے، کیوں کہ اس سے مسلمان بھائی کو انسیت ملتی ہے اور اس کے اندر مسرت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

فوائد
  1. مومنوں کی آپسی محبت اور ملاقات کے وقت مسکرا کر ملنے کی فضیلت۔
  2. اسلامی شریعت ایک مکمل اور جامع شریعت ہے، جس میں مسلمانوں کی خیر و فلاح اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنے والی ساری باتیں پائی جاتی ہیں۔
  3. اچھا کام کرنے کی ترغیب، چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔
  4. مسلمانوں کو خوش ہونے کا موقع دینا مستحب ہے، کیوں کہ اس سے آپسی محبت پیدا ہوتی ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2026) (2626). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 119). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 341). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، (1/ 572). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 20).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com