اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ہم دنیا اور دین سے متعلق تمام کاموں میں نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ کریں۔ کیوں کہ عطا کرنے والا اور محروم کرنے والا، فائدہ پہنچانے والا اور نقصان کرنے والا بس اللہ ہی ہے۔ اسی طرح ہم اللہ پر بھروسہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اسباب اختیار کریں، جن سے منفعتیں حاصل ہوں اور مضرتوں سے بچا جا سکے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو اللہ ہمیں اسی طرح روزی دے گا، جس طرح پرندوں کو روزی دیتا ہے، جو صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس ہوتے ہيں۔ دراصل پرندوں کا صبح کے وقت نکلنا طلب رزق کی سعی کی ایک شکل ہی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں یا سستی سے کام لیں اور ان کو روزی مل جائے۔
- اللہ پر بھروسہ کرنے کی فضیلت اور یہ کہ اللہ پر بھروسہ روزی حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔
- اللہ پر بھروسہ اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے، کیوں کہ آپ نے بتایا ہے کہ روزی کی تلاش میں صبح اور شام نکلنا اللہ پر حقیقی توکل کے منافی نہیں ہے۔
- شریعت نے دلوں کے اعمال پر بھی توجہ دی ہے، کیوں کہ اللہ پر بھروسہ دل کا عمل ہے۔
- اسباب سے دل لگانے کا مطلب ہے کہ انسان کی دینداری میں کمی ہے، جب کہ اسباب ترک کر دینے کا مطلب ہے کہ انسان کی عقل مندی میں کمی ہے۔
سنن الترمذي (4/ 166) (2344). سنن ابن ماجه (5/ 266) (4164). مسند أحمد (1/ 332) (205). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص103). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص152). الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله المحسن (ص91).