سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حیا تو خیر ہی لاتی ہے۔

عن عمران بن حصين رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رسولُ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «الحَيَاءُ لاَ يَأْتِي إِلاَّ بِخَيرٍ». وفي رواية : «الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ» أو قال: «الحَيَاءُ كُلُّهُ خَيرٌ».
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیا تو خیر ہی لاتی ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: «الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ» یعنی حیا سراپا خیر ہے۔ یا پھر آپﷺ نے یہ فرمایا: «الحَيَاءُ كُلُّهُ خَيرٌ» یعنی حیا سرتاپا خیر ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حیا نفس کی ایک صفت ہے، جو انسان کو ایسے عمل پر ابھارتی ہے جو عمدگی اور زیبائش کا سبب ہو اور ایسے عمل کو ترک کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جو گندگی اور عار کا سبب ہو۔ اس لیے حیا خیر ہی کا سبب ہوا کرتی ہے۔ اس حدیث کا سبب ورود یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو حیا نہ کرنے کی نصیحت کر رہا تھا کہ نبی ﷺ نے اس سے یہ بات ارشاد فرمائی۔

حوالہ

رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قلبی اعمال کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com