سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے جب بھی عمر رضی اللہ عنہ کو (کسی مسئلہ میں رائے دیتے ہوئے) یہ کہتے سنا کہ میرے خیال میں یہ ایسے ہے تو وہ بات ویسے ہی نکلتی جیسے آپ کا خیال ہوتا۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: ما سمعت عمر رضي الله عنه يقول لشيء قَطُّ: إني لأظنه كذا، إلا كان كما يظن.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: میں نے جب بھی عمر رضی اللہ عنہ کو (کسی مسئلہ میں رائے دیتے ہوئے) یہ کہتے سنا کہ میرے خیال میں یہ ایسے ہے تو وہ بات ویسے ہی نکلتی جیسے آپ کا خیال ہوتا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

صحابہ کا مشاہدہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ایسے امور میں رائے دیتے جو لوگوں کے لئے ظاہر اور واضح نہیں ہوتے تھے تاہم جب وہ واضح ہوتے تو پتہ چلتا کہ ان کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی عمر رضی اللہ عنہ جو رائے دے چکے ہیں وہ ظاہر ہونے والی حقیقیت کے بالکل موافق ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان، الطبعة: الرابعة، 1425هـ - 2004م. - شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. -عمدة القاري شرح صحيح البخاري، بدر الدين العينى، دار إحياء التراث العربي – بيروت، بدون تاريخ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com