سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔

عن أسيد بن حضير وأنس بن مالك رضي الله عنهما أنَّ رجُلاً من الأنصار، قال: يا رسول الله، ألاَ تَستَعمِلُنِي كما استَعمَلت فُلانًا، فقال: «إِنَّكُم سَتَلقَون بَعدِي أَثَرَة فَاصبِرُوا حَتَّى تَلقَونِي على الحَوض».
اسید بن حضیر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ عامل بنادیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ﷺ اسے بھی کسی حکومتی منصب پر فائز کر دیں، جس طرح آپ ﷺ نے دیگر لوگوں کو حکومتی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ وہ شخص اور آپ ﷺ کے صحابہ مستقبل میں حکام کی طرف سے پیش آنے والے ظلم و جور پر صبر کا مظاہرہ کریں، جو اپنی رعیت کو محروم رکھتے ہوئے تن تنہا مال و دولت پر قابض ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ آپ ﷺ نے انھیں صبر سے کام لینے کی تلقین کی، یہاں تک کہ وہ حوض پر آپ ﷺ سے آ ملیں۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. الشرح الممتع على زاد المستقنع، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، ط1، دار ابن الجوزي، 1422 - 1428هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com