اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا ذکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات، آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں دریں اثنا فاطمہ رضی اللہ عنھا، آپ ﷺ کے مرض الموت کے موقع پر آپ ﷺ کی عیادت کے لیے تشریف لائیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا ذکر کرتی ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا چلتی ہوئی آئیں تو ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی چال، نبی ﷺ کی چال ہے اور آپ ﷺ کی عادت تھی کہ جب کبھی آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا تشریف لاتیں تو آگے بڑھ کر ان کا بوسہ لیتے اور اپنی بیٹھک میں انہیں بھی بٹھالیتے، چنانچہ آپ نے ان کا پُرتپاک خیر مقدم کیا اور اپنے بازو میں بٹھالیا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنھا اس بات کی خبر دیتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کے کان میں کوئی راز کی بات کہی تو وہ شدت کے ساتھ رو پڑیں اور جب آپ نے ان کے شدید غم کو دیکھا تو دوسری مرتبہ کوئی اور راز کی بات ان کے کان میں کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان سے اس خاص بات کے بارے میں دریافت کیا جو آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو چھوڑ کر خاص فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمائی تھی اور جس کی وجہ سے وہ روپڑی تھیں، تو فاطمہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو عام نہیں کرسکتی۔جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگیے تو عائشہ رضی اللہ عنھا نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو قسم دے کر کہا کہ وہ انھیں وہ بات بتائیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب آپ نے مجھ سے پوچھا ہے تو میں ضرور بتاؤں گی، میرے پہلے رونے کی وجہ یہ تھی کہ جب آپ ﷺ نے مجھ سے پہلی مرتبہ راز کی بات کہی تو آپ نے مجھے یہ بتایا کہ جبریل علیہ السلام ہر سال آپ کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ انھوں نے دو مرتبہ دور کرایا اور آپ ﷺ کا خیال تھا کہ یہ آپ کی مدت حیات کے ختم ہونے کا انتباہ ہے اور آپ نے مجھے تقوی اور صبر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی، تقوی اور صبر کے ساتھ مجھے پہنچنے والا سلف کا شرف، پیدا ہونے والی جدائی کے غم کا متبادل ہوجائے گا، اسی وجہ سے میں روپڑی جس وقت آپ نے مجھے روتے دیکھا اور جب آپ ﷺ نے میرے شدید غم کو دیکھا تو مجھے اس بات کی بشارت سنائی کہ میں جنت میں ایمان والی عورتوں کی سردار ہو ں گی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنس پڑی جو آپ نے دیکھی۔ اس حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا، جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، اس کے باوجود روایات کے اختلاف سے اس مسئلہ میں کچھ اور اقوال پائے جاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ ان سے کیا راز کی بات فرمائی اور جس کی بناء پر وہ ہنس پڑیں، ان میں سے چند اقوال حسبِ ذیل ہیں: 1- آپ ﷺ نے انھیں اس بات کی خبر دی کہ وہ آپ کے گھر والوں میں آپ سے سب سے پہلے ملیں گیں۔ 2- آپ ﷺ نے انھیں یہ خبر دی کہ وہ جنتی عورتوں کی سردار ہوں گی اور آپ کے اہل میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے ملنے کی بات کو پہلی (رازدارانہ) بات کے ساتھ جوڑ دیا اور یہی راجح قول ہے۔ 3- آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے خبر دی کہ مسلمانوں کی عورتوں میں کوئی ایسی نہیں جو ذریت و نسل کے اعتبار سے تم سے زیادہ عظمت کی حامل ہو، اس لیے تمہیں ان میں سے کسی عام عورت کی طرح معمولی درجہ کا صبر رکھنے والی خاتون نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ان معانی میں یہ معنی بھی اہمیت کا حامل ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے علمی اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے انتہائی سبقت کے ساتھ نبی ﷺ اور ان کے درمیان ہوئی راز کی باتوں کے بارے میں دریافت کیا اور نبی ﷺ کی اس عظیم دختر کے جواب کو بھی ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ " میں نبی کریم ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرسکتی"، اور یہی امر اس حدیث کا شاہد ہے اور جب نبی ﷺ کی موت سے افشائے راز کا ڈر و خوف ختم ہوگیا تو انھوں نے اس پردۂ راز کو اٹھادیا۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے عنقریب وقوع پذیر ہونے والے امر کی خبر دی اور وہ آپ کے فرمان کے مطابق واقع ہوئی، کیوں کہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا ہی وہ پہلی فرد رہیں جو نبی ﷺ کے گھرانے میں آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن سے بھی پہلے وفات پائیں۔
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423 هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ. فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر العسقلاني، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379 شرح العقيدة الواسطية، لابن عثيمين، دار ابن الجوزي، الطبعة السابعة، 1422ه.